لکھنؤ کے ایمیٹی یونیورسٹی کیمپس میں بی اے-ایل ایل بی کے دوسرے سال کے طالب علم شیکھر کو گاڑی میں یرغمال بنا کر مارنے پیٹنے کے سنسنی خیز واقعے میں پولیس نے ملزمہ طالبہ جانوی اور اس کے دوستوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جانوی مشرا اور اس کے ساتھیوں نے شیکھر کو بے رحمی سے پیٹا اور اس واقعے کی ویڈیو وائرل کر دی تھی۔
متاثرہ طالب علم کے والد مکیش نے جمعہ 5 ستمبر کو چنہٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں جانوی مشرا، آیوش یادو، ملن بنرجی، ویویک سنگھ، آریامن شکلا اور ایک دیگر شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
A video of an Amity University law student in UP’s Lucknow being slapped by classmates atleast 26 times in over a minute has surfaced on social media. The trigger behind this incident is yet to be ascertained. pic.twitter.com/FssBFAvEuT
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) September 5, 2025
پورا معاملہ کیا ہے؟
موصولہ معلومات کے مطابق یہ واقعہ 26 اگست کو ایمیٹی یونیورسٹی کی پارکنگ میں پیش آیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جانوی مشرا اور اس کے ساتھی شِیکھر کو گاڑی میں یرغمال بنا کر تھپڑ مار رہے ہیں۔ متاثرہ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے اسے ڈیڑھ منٹ میں 26 تھپڑ مارے، گالیاں دیں اور اس کا موبائل فون توڑ دیا۔ ویڈیو مبینہ طور پر خود ملزمان نے کالج گروپس اور سوشل میڈیا پر وائرل کی، جس کے باعث شِیکھر ذہنی طور پر بہت متاثر ہوا اور اس نے کالج جانا بند کر دیا ہے۔
قانونی کارروائی:
چنہٹ پولیس نے مکیش کی شکایت پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 351(2) (مارپیٹ)، 352 (فساد برپا کرنا)، اور 351(3) (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ چنہٹ تھانے کے ایس ایچ او، دنیش چندر مشرا کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور وائرل ویڈیو کی جانچ کی جا رہی ہے۔ لکھنؤ پولیس نے اپنے سرکاری X (ٹوئٹر) ہینڈل پر تصدیق کی ہے کہ تمام نامزد ملزمان سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ہے اور جلد کارروائی کی جائے گی۔
جون سے کالج نہیں جا سکا تھا:
شِیکھر نے بتایا کہ جون میں اس کے گھٹنے کا آپریشن ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ دو ماہ تک کالج نہیں جا سکا۔ 8 اگست سے وہ باقاعدگی سے کلاسز میں شامل ہو رہا تھا۔ 26 اگست کو وہ اپنے دوست سومیا سنگھ یادو کے ساتھ کیمپس میں تھا، تبھی جانوی اور اس کے ساتھیوں نے اسے گاڑی میں یرغمال بنا کر مارا۔ شِیکھر نے کہا کہ مجھے بدنام کرنے کے لیے میری چیٹس ڈیلیٹ کر دی گئیں اور ویڈیو وائرل کی گئی۔ ایمیٹی یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



