Bharat Express DD Free Dish

Flood alert in Delhi: دہلی میں سیلاب کا خطرہ برقرار، یمنا ندی خطرے کے نشان سے اوپر، بیماریوں کا بھی خطرہ بڑھا

یمنا کے پانی کی سطح بڑھنے سے کئی علاقے زیر آب آ چکے ہیں، جن میں یمنا بازار،  مجنوں کا ٹیلا، گیتا کالونی، گڑھی مانڈو، کشمیری گیٹ اور مایور وہار شامل ہیں۔ اب تک بچاؤ ٹیمیں 14,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں۔

دہلی ان دنوں دوہرے بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف مسلسل بارش، اور دوسری جانب یمنا ندی کی طغیانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اگرچہ جمعہ کے روز سے یمنا ندی کے پانی کی سطح میں کمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن نچلے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ یمنا ندی اس وقت بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، جس کی وجہ سے متعدد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

یمنا ندی کی  پانی کی سطح

ہفتہ کی صبح 6 بجے یمنا ندی کا پانی 206.65 میٹر ریکارڈ کیا گیا، جب کہ صبح 5 بجے یہ سطح 206.67 میٹر تھی۔ واضح رہے کہ یمنا کا خطرے کا نشان 205.33 میٹر ہے، یعنی موجودہ سطح خطرناک حد سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ہفتہ کی صبح:ہتنی کنڈ بیراج سے: 58,216 کیوسک پانی چھوڑا گیا، وزیرآباد بیراج سے: 1,20,220 کیوسک،اوکھلا بیراج سے: 2,18,028 کیوسک پانی چھوڑا گیا۔

بارش کا الرٹ برقرار

اگرچہ جمعہ کے دن دہلی-این سی آر میں بارش سے کچھ حد تک راحت ملی، لیکن محکمہ موسمیات نے اگلے چار دنوں تک ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بادل چھائے رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

متاثرہ علاقے اور نکاسیٔ آب کی صورتحال

یمنا کے پانی کی سطح بڑھنے سے کئی علاقے زیر آب آ چکے ہیں، جن میں یمنا بازار،  مجنوں کا ٹیلا، گیتا کالونی، گڑھی مانڈو، کشمیری گیٹ اور مایور وہار شامل ہیں۔ اب تک بچاؤ ٹیمیں 14,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں۔

حکومت کی نگرانی اور کارروائیاں

وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ حالات پر حکومت کی کڑی نظر ہے اور جلد ہی صورت حال معمول پر آ جائے گی۔ انہوں نے تمام 11 اضلاع کے ڈی ایمز اور کمشنر نیرج سیموال کے ساتھ آن لائن میٹنگ کر کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا۔پی ڈبلیو ڈی وزیر پرویش ورما نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور واضح کیا کہ سول لائنز علاقے میں جو پانی جمع ہے، وہ یمنا کی طغیانی سے نہیں بلکہ شدید بارش کی وجہ سے ہے۔

راحت کیمپوں میں ہزاروں افراد

سیلاب سے متاثرہ افراد بڑی تعداد میں راحت کیمپوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں:

مشرقی دہلی: 7,200 افراد، 7 کیمپ،شمال مشرقی دہلی: 5,200 افراد، 13 کیمپ،جنوب مشرقی دہلی: 4,200 افراد، 8 کیمپ

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ان کیمپوں میں مقیم لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہاں کھانے، پینے کے پانی اور سونے کی سہولت ناکافی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے شاستری پارک کے کیمپ کا دورہ کیا، جہاں لوگوں نے کہا کہ وہ بارش کے دوران کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔حکومت کی طرف سے بیان جاری کیا گیا کہ کیمپوں میں روزانہ تین سے چار بار کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، اور صاف پانی اور بیت الخلاء کی سہولت بھی موجود ہے۔

بیماریوں کا بڑھتا ہوا خطرہ

راحت کیمپوں میں رہنے والے افراد اب مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق، بخار، جلدی دانے، اور فنگل انفیکشن کے مریض بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں اس کے اثرات زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔کشمیری گیٹ کے ایک کیمپ میں مقیم پوجا نامی خاتون نے بتایا کہ ان کے پانچ سالہ پوتے کو دو دن سے بخار ہے اور وہ اسے اسپتال لے گئیں۔ دیگر والدین بھی بچوں میں کمزوری اور بخار کی شکایت کر رہے ہیں۔

پانی کی قلت اور واٹر پلانٹ متاثر

یمنا میں گاد اور مٹی کی زیادتی کی وجہ سے وزیرآباد واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 20% کم ہو گئی ہے۔ عام حالات میں یہ پلانٹ روزانہ 138 ملین گیلن پانی صاف کرتا ہے، لیکن اب پانی کی فراہمی میں خلل پیدا ہو رہا ہے اور دہلی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت محسوس کی جا رہی ہے۔

ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال

نگم بودھ گھاٹ پر سیوریج بند ہونے کی وجہ سے آؤٹر رنگ روڈ پر چاندگی رام اکھاڑا سے ہنومان مندر تک شدید پانی جمع ہو گیا، جس کے باعث ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پولیس نے کئی علاقوں میں ڈائیورشن لگا دیے ہیں۔

عوام کو سخت انتباہ

ضلعی انتظامیہ نے عوام کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ کوئی بھی شخص یمنا ندی میں نہانے، کشتی چلانے یا سیر و تفریح کے لیے نہ جائے، کیونکہ اس سے حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

بھارت اایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read