Bharat Express DD Free Dish

PM Modi on Space Tech Shaping India’s Future: نیشنل اسپیس ڈے پر پی ایم مودی نے ملک میں حکمرانی اور روزمرہ کی زندگی میں خلائی ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کیا

اس موقع پر ISRO کے سربراہ وی نارائنن نے بھی خطاب کیا اور چندریان-3 کی کامیابی کا سہرا وزیرِ اعظم مودی کے وژن اور قیادت کو دیا۔

نئی دہلی میں نیشنل اسپیس ڈے 2025 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج اسپیس ٹیکنالوجی صرف سائنس کا شعبہ نہیں بلکہ بھارت کی حکمرانی اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فصل بیمہ، آفاتِ سماوی سے بچاؤ، ماہی گیری اور انفراسٹرکچر منصوبہ بندی جیسے کئی شعبے اب سیٹلائٹ پر مبنی ڈیٹا سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ ’’آج اسپیس ٹیک گورننس کا حصہ بن چکی ہے۔ فصل بیمہ اسکیم میں سیٹلائٹ سے تشخیص ہو یا ماہی گیروں کو حفاظتی اطلاعات، یا PM گتی شکتی ماسٹر پلان میں جیو اسپیشل ڈیٹا کا استعمال—سب عام شہری کی زندگی آسان بنا رہے ہیں۔‘‘

پی ایم مودی نے بھارتی اسپیس اسٹارٹ اپس سے مطالبہ کیا کہ کیا اگلے پانچ برسوں میں بھارت خلا کے شعبے میں پانچ یونیکورن کمپنیاں پیدا کر سکتا ہے؟ مودی نے نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور بھارت کو سالانہ 50 راکٹس لانچ کرنے کی صلاحیت تک لے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’فی الحال ہم ہر سال پانچ بڑے لانچ کرتے ہیں، لیکن میرا خواب ہے کہ ہر ہفتے ایک راکٹ لانچ ہو۔‘‘

اس موقع پر ISRO کے سربراہ وی نارائنن نے بھی خطاب کیا اور چندریان-3 کی کامیابی کا سہرا وزیرِ اعظم مودی کے وژن اور قیادت کو دیا۔ انھوں نے بتایا کہ لینڈنگ سائٹ کو ’’شِو شکتی پوائنٹ‘‘ کا نام بھی وزیرِ اعظم نے دیا اور 23 اگست کو نیشنل اسپیس ڈے قرار دیا۔ وی نارائنن نے اعلان کیا کہ بھارت چندریان-4 اور وینس آربیٹر مشن بھی لانچ کرے گا اور 2035 تک ’’بھارتیہ اسپیس اسٹیشن‘‘ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا، جس کا پہلا ماڈیول 2028 میں لانچ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت 2040 تک چاند پر اترے گا اور کامیابی سے واپس آئے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read