وزارت محنت و روزگار کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے عبوری پے رول اعداد و شمار کے مطابق ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے جون 2025 میں 21.8 لاکھ خالص باقاعدہ ملازمتیں فراہم کیں۔ یہ اپریل 2018 میں پے رول ڈیٹا ٹریکنگ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔ مئی 2025 کے مقابلے یہ اضافہ 8.9 فیصد رہا، جب کہ جون 2024 کے مقابلے 12.9 فیصد زیادہ ہے۔
نئے سبسکرائبرز میں نوجوانوں کی اکثریت
جون 2025 میں ای پی ایف او میں 10.6 لاکھ نئے سبسکرائبرز شامل ہوئے، جو مئی کے مقابلے 12.6 فیصد اور سال بہ سال 3.61 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں 60.2 فیصد یعنی تقریباً 6.4 لاکھ افراد کی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان تھی، جو مئی کے مقابلے 14.1 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منظم شعبے میں شمولیت اختیار کرنے والے زیادہ تر نوجوان پہلی بار روزگار حاصل کرنے والے ہیں۔
ملازمت بدلنے والوں کی بڑی تعداد
اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 16.9 لاکھ اراکین نے ملازمتیں بدلنے کے بعد دوبارہ ای پی ایف او میں شمولیت اختیار کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے 19.6 فیصد زیادہ ہے۔ ان افراد نے اپنے فنڈز نکالنے کے بجائے منتقل کیے، جس سے ان کی طویل مدتی مالی سلامتی اور سماجی تحفظ برقرار رہا۔
خواتین کی شمولیت میں اضافہ
جون میں 4.7 لاکھ خالص خواتین ممبران کا اضافہ ہوا، جب کہ نئے شامل ہونے والی خواتین کی تعداد 3 لاکھ رہی۔ خالص خواتین شمولیت میں گزشتہ سال کے مقابلے 10.3 فیصد اور نئی خواتین اراکین میں 1.34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک زیادہ متنوع اور جامع ورک فورس کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم ریاستوں کا حصہ
اعداد و شمار کے مطابق، پانچ بڑی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز نے مجموعی خالص پے رول میں 61.5 فیصد حصہ ڈالا۔ صرف مہاراشٹر نے 20.03 فیصد روزگار میں اضافہ کیا، جب کہ کرناٹک، تمل ناڈو، گجرات، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور تلنگانہ میں بھی 5 فیصد سے زیادہ حصہ رہا۔
اہم صنعتوں میں ترقی
مہینے بہ مہینے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ اسکول، ماہر خدمات، تعمیراتی صنعت اور یونیورسٹی و کالج کے شعبوں میں کام کرنے والے اراکین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





