منگل کے روز مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتانند رائے نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ‘بائیں بازو کے انتہا پسندوں’ کی جانب سے کیے جانے والے تشدد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے مقابلے میں 2024 میں ایسے تشدد کے واقعات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں بالترتیب 81 فیصد اور 85 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیر مملکت نیتانند رائے نے تحریری جواب میں کہا:
’’بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلقہ تشدد کے واقعات اور ان کے نتیجے میں شہریوں و سکیورٹی فورسز کی ہلاکتیں 2010 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 2024 میں بالترتیب 81 فیصد اور 85 فیصد کم ہو چکی ہیں۔‘‘
کانگریس کے رکن پارلیمان کلیان وجے ناتھ راؤ کالے کی طرف سے نکسل سرگرمیوں کو روکنے اور ماؤ نواز متاثرہ علاقوں میں تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں، رائے نے اعتراف کیا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی (LWE) ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج رہی ہے، تاہم 2015 کی قومی پالیسی اور ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد قبائلی علاقوں میں اس سے متعلقہ تشدد میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا:’’2015 کی قومی پالیسی اور ایکشن پلان کے پُرعزم نفاذ کے باعث نہ صرف تشدد میں مسلسل کمی آئی ہے بلکہ اس کا جغرافیائی دائرہ بھی سکڑ گیا ہے۔ LWE، جو کہ ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ رہا ہے، حالیہ برسوں میں کافی حد تک قابو میں آیا ہے اور اب صرف چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو چکا ہے۔ LWE سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 2013 میں 126 تھی، جو اپریل 2025 میں گھٹ کر صرف 18 رہ گئی ہے۔‘‘
رائے نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد دراصل قبائلی ہی ہیں۔
’’سماج کے غریب اور پسماندہ طبقے، خاص طور پر قبائلی برادری، اس تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والے زیادہ تر شہری قبائلی ہی ہوتے ہیں، جنہیں اکثر ’پولیس مخبر‘ قرار دے کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قتل کر دیا جاتا ہے،‘‘ وزیر مملکت نے کہا۔
نکسل باڑی تحریک کی ستم ظریفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رائے نے کہا کہ دراصل وہی قبائلی لوگ، جن کے حق کے نام پر ماؤ نواز ریاست کے خلاف عوامی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’LWE سے متاثرہ علاقوں کو پسماندگی کے شیطانی چکر اور سکیورٹی خدشات کے دوہرے چیلنج کا سامنا رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی قبائلی اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے، جن کے لیے ماؤ نواز اپنی نام نہاد ’عوامی جنگ‘ لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس بائیں بازو کی انتہا پسندی کے سب سے بڑے متاثرین ثابت ہوئے ہیں۔ غربت، تعلیم کی کمی، صحت کی ناقص حالت، بنیادی ڈھانچے اور رابطے کی کمی — یہ سب LWE تشدد کے ہی مظاہر ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

