الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جو کیش اسکینڈل میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان کے خلاف لوک سبھا میں منگل 12 اگست کو اسپیکر اوم برلا نے مواخذے (Impeachment) کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تجویز پر کل 146 ممبران پارلیمنٹ نے دستخط کیے ہیں، جن میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔
تحقیقی کمیٹی تشکیل
#WATCH | Lok Sabha Speaker Om Birla accepts motion signed by 146 MPs for impeachment of Justice Yashwant Verma. Speaker Om Birla announces a 3-member panel to probe allegations against High Court judge Justice Yashwant Varma.
(Source: Sansad TV) pic.twitter.com/bGksFq2Kkq
— ANI (@ANI) August 12, 2025
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں شامل ججوں کے نام بھی باضابطہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس کمیٹی میں:
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اروند کمار
مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منیندر موہن سریواستو
اور کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ بی بی آچاریہ
کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں ایک سپریم کورٹ کے جج، ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک ماہر قانون شامل ہونا ضروری ہوتے ہیں ۔ جب تک یہ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش نہیں کرتی، تب تک مواخذے کی کارروائی زیرِ التواء رہے گی۔
جسٹس ورما کو ہٹانے کی کوشش کیوں؟
اصل معاملہ مارچ 2025 کا ہے، جب 14 مارچ کو جسٹس ورما کے سرکاری رہائش گاہ میں اچانک آگ لگ گئی۔ اس وقت وہ دہلی ہائی کورٹ میں تھے۔ آگ بجھانے کے بعد، فائر بریگیڈ کو ان کے اسٹور روم میں بوریوں میں بھرے ہوئے جلے ہوئے 500 روپے کے نوٹوں کے بنڈل ملے۔ یہ نظارہ سب کو حیران کر گیا۔
جسٹس ورما نے اس پر وضاحت دی کہ ان کے پاس ایسی کوئی نقدی نہیں تھی اور یہ سب ان کو سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 مارچ کو انہیں دہلی سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔
مواخذہ (Impeachment) کیا ہوتا ہے؟
کسی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ میں مواخذے کی تجویز لائی جا سکتی ہے۔ یہ تجویز پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین یا لوک سبھا کے اسپیکر کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ پھر اس پر جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے، جس میں:
- سپریم کورٹ کےایک جج
- ہائی کورٹ کےچیف جسٹس
- اور ایک معروف ماہرِ قانون
کو شامل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کمیٹی جج کو قصوروار مانتی ہے تو پھر تجویز پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



