کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے اسرائیل کے حملے میں الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کی ہلاکت کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان حملوں پر کہا کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ اس دوران پرینکا واڈرا نے بھارتی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پرینکا گاندھی نے “ایکس” پر کیا پوسٹ
The Israeli state is committing genocide. It has murdered over 60,000 people, 18,430 of whom were children.
It has starved hundreds to death including many children and is threatening to starve millions.
Enabling these crimes by silence and inaction is a crime in itself.
It…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 12, 2025
پرینکا گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا:”الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کا بے رحمانہ قتل فلسطینی سرزمین پر کیا گیا ایک اور ہولناک جرم ہے۔ جو لوگ سچ کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت کرتے ہیں، ان کی بے پناہ جرأت اسرائیل کے تشدد اور نفرت سے کبھی نہیں ٹوٹے گا ۔ ایسی دنیا میں جہاں زیادہ تر میڈیا طاقت اور کاروبار کا غلام ہے، ان بہادر آتماؤں نے ہمیں یاد دلایا کہ سچی صحافت کیا ہوتی ہے۔ ایشور ان کی روح کو سکون دے۔”
اسرائیل پر نسل کشی کا الزام
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا:”اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ اس نے 60 ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا ہے، جن میں 18,430 بچے شامل ہیں۔ اس نے سیکڑوں لوگوں کو بھوک اور افلاس سے مار دیا ہے، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں، اور لاکھوں لوگوں کو بھوک سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔”
بھارت سرکار پر سوالات اٹھائے
بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے لکھا:”خاموش رہنا اور غیر فعالی کے ذریعے ان جرائم کو ہوا دینا بذاتِ خود ایک جرم ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ بھارت کی حکومت خاموش بیٹھی ہے، جب کہ اسرائیل فلسطینی عوام پر یہ تباہی مچا رہا ہے۔”
اسرائیلی دعوے کی سچھائی کیا ہے؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانچ صحافیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کا رپورٹر انس الشریف حماس کے ایک دہشت گرد گروپ کا سربراہ تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے انس الشریف کو نشانہ بنایا تھا۔ انس الشریف اپنے چار ساتھیوں — محمد قرائقہ، ابراہیم زہیر، مؤمن علیوہ اور محمد نوفل کے سات شہید ہوگئے۔
IDF نے ایک بیان میں کہا کہ انس الشریف اسرائیلی شہریوں اور فوج پر راکٹ حملے کر رہا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے حماس دستاویزات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ 2019 میں اس گروہ کی ایک اکائی میں شامل تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



