نئی دہلی: ان دنوں ملک میں ”ووٹ چوری“ کے معاملے پرسیاست گرم ہے۔ اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے ووٹرلسٹ میں بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے ان دعوؤں پرحلف نامہ طلب کیا تھا۔ اس کے ساتھ معافی بھی مانگی گئی ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے اس پورے معاملے پراپوزیشن کے 30 رکنی وفد کوملاقات کے لیے بلایا تھا۔ حالانکہ اپوزیشن کی طرف سے الیکشن کمیشن کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہم سبھی لوگ الیکشن کمیشن کے دفترجائیں گے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے احتجاج کیا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن تک مارچ کرنے کی کوشش میں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے 30 افراد کو دوپہر 12 بجے ملاقات کے لئے بلایا تھا۔ حالانکہ ابھی تک اپوزیشن سیاسی پارٹیوں کا وفد الیکشن کمیشن کے دفتر نہیں گیا ہے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ کے باہراپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کوروک دیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے راہل گاندھی کے بعد جے رام رمیش نے ووٹرلسٹ کی بے ضابطگیوں کے سلسلے میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کا وقت مانگا تھا، جس پرالیکشن کمیشن کی جانب سے 30 افراد کومیٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔
Election Commission of India Secretariat writes to Congress MP Jairam Ramesh
“EC has granted an appointment for an interaction at 12:00 PM today. It is requested that, due to the limitation of space, names of up to 30 persons may kindly be intimated…”, reads the letter
As of… pic.twitter.com/PZLXei4wfH
— ANI (@ANI) August 11, 2025
الیکشن کمیشن نے جے رام رمیش کو لکھا خط
الیکشن کمیشن آف انڈیا سکریٹریٹ نے کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش کوخط لکھا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا، الیکشن کمیشن نے بحث کے لیے آج دوپہر12 بجے کا وقت دیا ہے۔ درخواست ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ 30 افراد کے نام بتائیں۔
ووٹرلسٹ سے متعلق ہنگامہ آرائی جاری
ووٹرلسٹ میں گڑبڑی سے متعلق ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ راہل گاندھی سمیت تمام اپوزیشن لیڈران الیکشن کمیشن پر کئی طرح کے سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سیدھے سیدھے الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگایا ہے۔ اس سے متعلق گزشتہ روزانہوں نے ایک مہم کی شروعات بھی کی ہے۔ اس کے تحت راہل گاندھی نے ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی ہے۔ ساتھ ہی لوگوں سے اس مہم میں جڑنے کی اپیل بھی کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


