بھارت نے روس سے خام تیل کی خریداری کے معاملے پر نئی دہلی کو غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ طریقے سے نشانہ بنانے پر پیر 4 اگست 2025کو امریکہ اور یورپی یونین پر سخت جوابی وار کیا۔ بھارت نے تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور یورپی یونین کی روس کے ساتھ جاری تجارتی سرگرمیوں کی طرف توجہ دلائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر مزید ٹیرف (محصولات) لگانے کی دھمکی دینے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد، بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی اور ماسکو کے درمیان توانائی تعلقات پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت کو روس سے تیل درآمد کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ درحقیقت بھارت نے روس سے درآمدات اس لیے شروع کیں کیونکہ جنگ کے بعد روایتی سپلائی یورپ کی طرف موڑ دی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا، “اس وقت امریکہ نے بھارت کو عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے ایسی درآمدات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی۔”
بھارتی یوزر کے لیے توانائی کی لاگت
وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت روس سے جو کچھ درآمد کرتا ہے، اس کا مقصد بھارتی یوزر کے لیے توانائی کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ درآمدات ایک مجبوری بن چکی ہیں جو عالمی منڈی کی صورت حال کی وجہ سے ناگزیر ہو گئی ہے۔ تاہم اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت پر تنقید کرنے والے ممالک خود بھی روس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بیان میں کہا گیا، “ہمارے معاملے کے برعکس، ایسا کاروبار ان کے لیے کوئی قومی مجبوری بھی نہیں ہے۔” وزارت خارجہ نے بتایا کہ یورپ اور روس کے درمیان تجارت نہ صرف توانائی تک محدود ہے، بلکہ اس میں کھاد، معدنیات، کیمیکل، لوہا و اسٹیل، مشینری اور ٹرانسپورٹ کا سامان بھی شامل ہے۔ وزارت نے مزید کہا، “جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، وہ اپنے ایٹمی انڈسٹری کے لیے روس سے یورینیم ہیگزافلورائیڈ، اپنے الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کے لیے پیلاڈیم، کھاد اور کیمیکل درآمد کرتا رہا ہے۔”
بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ ہے
وزارت خارجہ نے کہا، “ایسے پس منظر میں بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ کسی بھی بڑی معیشت کی طرح، بھارت بھی اپنے قومی مفادات اور معاشی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔” وزارت خارجہ کے مطابق، 2024 میں یورپی یونین اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت 67.5 ارب یورو کی رہی۔ علاوہ ازیں، 2023 میں خدمات کے شعبے میں تقریباً 17.2 ارب یورو کا تجارت بھی شامل تھا، جو اس سال یا اس کے بعد بھارت اور روس کے مابین مجموعی تجارت سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی صدر کا بھارت مخالف بیان
وزارت خارجہ نے کہا، “درحقیقت 2024 میں یورپ کی جانب سے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی درآمد ریکارڈ 16.5 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو 2022 کے 15.21 ملین ٹن کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گئی۔” اس سے پہلے، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی حکومت بھارت پر محصولات میں کافی اضافہ کرے گی۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر لکھا، “بھارت نہ صرف روس سے بھاری مقدار میں تیل خرید رہا ہے، بلکہ اس تیل کا بڑا حصہ کھلی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر کے خوب منافع بھی کما رہا ہے۔” اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کہا، “اسے (بھارت کو) اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روس کی جنگی مشین کتنے لوگوں کی جان لے رہی ہے۔ اسی لیے میں بھارت پر امریکی ٹیرف میں کافی اضافہ کرنے جا رہا ہوں۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
