Bharat Express DD Free Dish

Ukraine’s Zaporizhzhya Nuclear Power Plant: یوکرین میں نیوکلیئر پلانٹ کے قریب دھماکے، روس میں ڈرون حملوں سے آئل ریفائنری اور فوجی بیس تباہ

حملے کے طریقۂ کار کی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ یوکرین روس کے اندر موجود اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑھتے ہوئے حملے اور نیوکلیئر تنصیبات کے قریب خطرات پورے یورپی خطے میں سلامتی سے جڑے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔

یوکرین کے زاپورژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں اور قریبی علاقے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق یہ دھماکے پلانٹ کے ایک معاون سہولت مرکز (Auxiliary Facility) پر ہوئے، جو نیوکلیئر پلانٹ کی بیرونی حدود سے تقریباً 1200 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

IAEA نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے مشاہدہ کاروں نے دن بھر اس سمت سے دھواں اٹھتے دیکھا، اور پلانٹ کی سیکورٹی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زاپورژیا پلانٹ کو لے کر دنیا بھر میں پہلے ہی تشویش پائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ یورپ کا سب سے بڑا نیوکلیئر توانائی مرکز ہے اور روس-یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک کئی بار حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

روس کے اندر یوکرین کے جوابی حملے

دوسری طرف، یوکرین نے جنگ کا دائرہ روس کی سرزمین تک وسیع کرتے ہوئے کئی اسٹریٹیجک اہداف پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ یوکرینی فورسز کے مطابق ریازان کی بڑی آئل ریفائنری، وورونش کی آئل اسٹوریج یونٹ، ایک فوجی ایئر بیس اور ایک الیکٹرانک آلات تیار کرنے والی فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی

یوکرین کی اسپیشل فورس ’یو ایس ایف‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ ماسکو سے تقریباً 180 کلومیٹر دور واقع ریازان آئل ریفائنری پر کیے گئے حملے کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ اس حملے کا مقصد روس کی توانائی فراہمی کو متاثر کرنا تھا۔ اگرچہ حملے کے طریقۂ کار کی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ یوکرین روس کے اندر موجود اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑھتے ہوئے حملے اور نیوکلیئر تنصیبات کے قریب خطرات پورے یورپی خطے میں سلامتی سے جڑے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read