راجیہ سبھا میں منگل کو حزب اختلاف کے رہنما ملیکاارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو دوسروں پر تنقید کے بجائے خود احتساب کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’حکومت نے صرف جھوٹ کے کارخانے بنائے، پبلک سیکٹر نہیں‘‘ اور نہرو جی کو گالیاں دینا ان کا وطیرہ بن چکا ہے، حالانکہ وہی لوگ بچپن میں چچا نہرو کی سالگرہ مناتے تھے۔
وزیراعظم کو ایوان میں آ کر بات سننی چاہیے
کھڑگے نے طنز کیا کہ وزیر اعظم بغیر بلائے پاکستان جا کر گلے ملتے ہیں، پھر دوسروں کو حب الوطنی کا سبق پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر سوال اٹھایا کہ کیا آپ کو پہلے سے معلوم تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، کیونکہ آپ نے اپنا دورہ اچانک منسوخ کر دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، مگر ٹال مٹول کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ایوان میں آ کر بات سننی چاہیے، نہ کہ انتخابی مہم میں مصروف رہنا چاہیے۔ کھڑگے کے ان بیانات پر قائدِ ایوان جے پی نڈا نے اعتراض جتاتے ہوئے کئی ریمارکس حذف کرنے کی اپیل کی۔
کھڑگے کا حکومت پر سخت حملہ، وزیر داخلہ سے استعفیٰ کا مطالبہ
کانگریس صدر ملیکاارجن کھڑگے نے پہلگام حملے کو انٹیلی جنس کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ کو فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا خود اسے انٹیلی جنس کی ناکامی تسلیم کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ وہ اس کی ذمہ داری لیتے ہیں، جبکہ انٹیلی جنس تو براہ راست وزیر داخلہ کے دائرے میں آتی ہے۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ کیا منوج سنہا نے یہ بیان وزیر داخلہ کو بچانے کے لیے دیا یا انہیں ایسا کہنے کو کہا گیا؟
آخر باقی ماندہ حملہ آوروں کو کب پکڑا جائے گا؟
کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں پہلگام میں پانچ بار حملے ہو چکے ہیں لیکن ان سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کل جن تین دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر دی گئی، ان کے بارے میں ایک دن پہلے ماسٹر مائنڈ ہونے کا دعویٰ کیا گیا، آج پھر نئے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ آخر باقی ماندہ حملہ آوروں کو کب پکڑا جائے گا؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

