وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جھارکھنڈ کے دیوگھر میں ہوئے المناک سڑک حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ منگل کو دیوگھر میں کانوڑیوں کو لے جا رہی بس حادثے کا شکار ہو گئی، جس میں 5 عقیدت مندوں کی جان چلی گئی، جب کہ 20 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ وزیر اعظم مودی نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اطلاع منگل کے روز وزیر اعظم کے دفتر نے دی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے دیوگھر حادثے پر کہا، ’’جھارکھنڈ کے دیوگھر میں پیش آیا سڑک حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس میں جان گنوانے والے عقیدت مندوں کے خاندانوں کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔ ایشور انہیں یہ درد برداشت کرنے کی طاقت دے۔ اس کے ساتھ ہی میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔‘‘
جھارکھنڈ کے گورنر سنتوش گنگوار نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر لکھا، ’’دیوگھر سے باسوکیناتھ جانے والی کانوڑیوں کی بس حادثے میں بہت سے عقیدت مندوں کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں سوگوار خاندانوں سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور بابا بھولناتھ سے زخمی عقیدت مندوں کی جلد صحت یابی کی کامنا کرتا ہوں۔‘‘
جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے اسے انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام عقیدت مندوں کے بہتر علاج کو یقینی بنائے۔
سابق وزیر اعلی ارجن منڈا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس واقعہ پر غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’موہن پور، دیوگھر کے جمونیا چوک پر عقیدت مندوں سے بھری بس کے حادثے کا شکار ہونے کی خبر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔ اس حادثے میں کئی عقیدت مندوں کی بے وقت موت کی خبر نے میرے ذہن کو افسردہ کر دیا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


