مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالم اسلامی) نے فرانسیسی جمہوریہ کے صدر کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کا پُرجوش خیر مقدم کیا ہے۔ لیگ نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس تسلیم شدہ حیثیت کی آئندہ باضابطہ منظوری کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔
درست سمت میں ایک مؤثر قدم
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل اور مسلم علماء کونسل کے صدر شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس اہم فیصلے کو سراہا اور اسے درست سمت میں ایک مؤثر قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے تاریخی اور قانونی حقوق کی حمایت میں ایک جائز اور ذمہ دارانہ مؤقف کو ظاہر کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔
Statement from the Muslim World League: pic.twitter.com/63WYWPTMZ0
— Muslim World League (@MWLOrg_en) July 25, 2025
غزہ جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کی اپیل
ڈاکٹر العیسیٰ نے دنیا کے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ سچائی، انصاف اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کے لیے فرانسیسی جمہوریہ کی مثال پر عمل کریں۔ انہوں نے عالمی برادری سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ غزہ کی پٹی میں نہتے شہریوں کے خلاف جاری ظالمانہ جنگ کو بند کرانے کے لیے فوری اقدام کرے، اور عرب امن منصوبے و بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کے اُس حق کی حمایت کرے جس کے تحت وہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد ریاست قائم کر سکیں۔
رابطہ عالم اسلامی کا تعارف
واضح رہے کہ مسلم ورلڈ لیگ (MWL) ایک بین الاقوامی اسلامی غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا قیام 1962 میں مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں عمل میں آیا۔ یہ تنظیم دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد، یکجہتی، اسلامی تعلیمات کی ترویج، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتی ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ کا کردار عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے، مسلم ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے اور بین الاقوامی سطح پر امن، رواداری اور انصاف کو فروغ دینے میں خاصا اہم سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


