Urdu Conclave 2026

Meenakshi Lekhi injured during Yatra: میناکشی لیکھی کیلاش مان سروور یاترا کے دوران ہوئیں زخمی، سفر درمیان میں چھوڑ کر وطن واپس لوٹیں

کیلاش مان سروور یاترا ہر سال عقیدتمند ہندوؤں کے لیے روحانی عقیدت کا مرکز رہی ہے۔ لیکن یہ انتہائی دشوار گزار اور خطرناک سفر بھی مانا جاتا ہے، خاص طور پر اونچائی، سرد موسم اور کٹھن راستوں کی وجہ سے۔ یہ حادثہ ایک بار پھر یاترا کی طبی احتیاط اور محفوظ انتظامات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

نئی دہلی/ پتھورا گڑھ: بی جے پی رہنما اور سابق مرکزی وزیر میناکشی لیکھی کو کیلاش مان سروور یاترا کے دوران شدید چوٹ لگ گئی ہے۔ تبت کے دارچن علاقے میں یاترا کے دوران وہ گھوڑے سے گر گئیں، جس کے باعث ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی ہے۔ اس حادثے کے بعد انہیں فوری طور پر ہندوستان واپس لایا گیا ہے۔

زمینی راستے سے ریسکیو

بلند ہمالیائی علاقے میں موسم کی خرابی کے سبب ہیلی کاپٹر سے ریسکیو ممکن نہ ہو سکا۔ اس لیے میناکشی لیکھی کو زمینی راستے سے گونجی کے راستے دھارچولہ لایا گیا۔ وہ یاترا کے دوسرے بیچ میں شامل تھیں اور ہفتہ کے روز حادثے کا شکار ہوئیں۔

ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کی تصدیق

حادثے کے بعد انہیں یاترا راستے پر ہی بنائے گئے عارضی اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں ایکس رے میں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کی تصدیق ہوئی۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں فوراً یاترا روک کر واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔

جوش وخروش سے یاترا میں ہوئیں تھیں شامل

میناکشی لیکھی کچھ روز قبل پتھورا گڑھ سے پوری عقیدت اور جوش کے ساتھ کیلاش مان سروور یاترا کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ انہوں نے روانگی کے موقع پر کہا تھا کہ شیو دھام کی یاترا میں شامل ہونا میرے لیے روحانی خوش نصیبی ہے۔ تاہم تبت میں شیو دھام تک پہنچنے سے قبل ہی یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا۔ کیلاش مان سروور یاترا ہر سال عقیدتمند ہندوؤں کے لیے روحانی عقیدت کا مرکز رہی ہے۔ لیکن یہ انتہائی دشوار گزار اور خطرناک سفر بھی مانا جاتا ہے، خاص طور پر اونچائی، سرد موسم اور کٹھن راستوں کی وجہ سے۔ یہ حادثہ ایک بار پھر یاترا کی طبی احتیاط اور محفوظ انتظامات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read