Bharat Express DD Free Dish

More than 50 Palestinians killed: غزہ میں امدادی مراکز پر فائرنگ، 50 سے زائد فلسطینی جاں بحق — بھوک سے بے حال عوام پر اسرائیلی فوج نے برسائیں گولیاں

یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک تک رسائی بھی جان جوکھم کا کام بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کھانا مانگنے والے بھوک سے بے حال انسانوں پر بھی گولیاں چلائی جائیں، تو انسانیت کہاں کھڑی ہے؟

غزہ کے جنوبی حصے میں خوراک کے حصول کے لیے جمع بھوکے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں کم از کم 50 افراد جاں بحق ہو گئے۔ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد غزہ میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے خوراک تقسیم مرکز کی طرف جا رہے تھے۔ ایک عینی شاہد نے آنسو بھری آواز میں بتایا’’ہم نے چیخ کر کہا کہ کھانا چاہیے، کھانا چاہیے، لیکن انہوں نے ہم سے کوئی بات نہیں کی اور سیدھے ہم پر گولیاں برسا دیں۔‘‘

فائرنگ کے دو بڑے واقعات

خان یونس کے نزدیک پہلا واقعہ پیش آیا، جہاں سینکڑوں افراد پیدل جی ایچ ایف کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے پہلے فضا میں اور پھر ہجوم پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ 25 افراد کی لاشیں ناصر اسپتال پہنچیں، جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹینکوں اور ڈرونز سے بھی فائرنگ کی گئی۔ دوسرا واقعہ رفح کے شکوش علاقہ میں پیش آیا، جہاں 7 افراد، جن میں ایک خاتون شامل تھیں، جان کی بازی ہار گئیں۔

اسرائیل اور جی ایچ ایف کا متضاد موقف

جہاں عینی شاہدین اور مقامی اسپتالوں نے واقعے کی تصدیق کی ہے وہیں جی ایچ ایف کا دعویٰ ہے کہ کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، اگر اموات ہوئیں تو وہ بھگدڑ اور حماس کی افواہوں کی وجہ سے ہوئیں۔ اسرائیلی فوج نے اب تک واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ان کا عمومی موقف یہی رہا ہے کہ وہ ہجوم کے بہت قریب آنے پر انتباہی فائرنگ کرتی ہے۔

انسانی بحران، بین الاقوامی خاموشی

واقعے میں ایک اردنی نژاد فلسطینی شخص نے بتایا کہ ان کا انیس سالہ بیٹا ہشام بھی مارا گیا۔ انہوں نے اردن حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں غزہ سے نکالنے میں مدد کرے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ابھی تک اس خاص واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں خوراک کے لیے ترستے عوام پر فائرنگ کو جنگی جرم قرار دے رہی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک تک رسائی بھی جان جوکھم کا کام بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کھانا مانگنے والے بھوک سے بے حال انسانوں پر بھی گولیاں چلائی جائیں، تو انسانیت کہاں کھڑی ہے؟

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read