نئی دہلی: ملک میں اشیاء و خدمات ٹیکس (GST) کے نظام میں دیرینہ اصلاحات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تمام فریقین، ریاستی حکومتوں اور مرکزی وزارتوں کے ساتھ بات چیت کی قیادت کریں گے۔ اس بات چیت کا مقصد جی ایس ٹی کی شرحوں میں توازن پیدا کرنا اور سیاسی طور پر حساس نکات پر اتفاق رائے قائم کرنا ہے، جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔
12 فیصد جی ایس ٹی سلیب کو ختم کرنے کی تجویز
اصلاحات کے تحت ایک اہم تجویز یہ ہے کہ 12 فیصد جی ایس ٹی شرح کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے اور اس میں شامل اشیاء کو یا تو 5 فیصد یا 18 فیصد سلیب میں منتقل کر دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے جی ایس ٹی ڈھانچہ تو آسان ہو جائے گا، لیکن مرکز اور ریاستوں کو ملا کر 70,000 سے 80,000 کروڑ روپے تک کا ریونیو نقصان ہو سکتا ہے۔
ریاستوں کی ہچکچاہٹ
ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے امت شاہ نے وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران سے تفصیلی ملاقات کی تھی۔ ان کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی سطح پر کتنا حساس ہے اور اس کے لیے اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی ضروری ہے۔
ایک سینئر افسر نے کہا چاہے بی جے پی کی حکومت ہو یا اپوزیشن کی، کوئی بھی ریاست اس تجویز کو آسانی سے قبول نہیں کرے گی، جب تک کہ باقاعدہ بات چیت نہ ہو۔
کن اشیاء پر ہوگا اثر؟
فی الحال 12 فیصد سلیب میں شامل اشیاء میں پیک بند خوراک، کپاس کے تھیلے، سلائی مشینیں، آکسیجن سپلائیز، ڈائگناسٹک کٹس جیسی اشیاء شامل ہیں۔ اگر اس سلیب کو ختم کیا جاتا ہے تو ان تمام اشیاء کی نئے سرے سے درجہ بندی کرنا ایک چیلنج ہوگا۔
جی ایس ٹی میں ریونیو کی حصہ داری
پارلیمنٹ میں پیش کردہ 2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق:
12% سلیب سے کل جی ایس ٹی ریونیو کا صرف 5-6 فیصد حاصل ہوتا ہے۔
18% سلیب سب سے بڑا حصہ دار ہے، جو 70-75 فیصد تک ریونیو دیتا ہے۔
5% سلیب سے 6-8 فیصد اور
28% سلیب سے 13-15 فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے۔
2021 سے رکے ہوئے ہیں اصلاحاتی اقدامات
جی ایس ٹی نظام جولائی 2017 میں نافذ ہوا تھا۔ لیکن شرحوں کی بہتات (0%, 5%, 12%, 18%, 28% + سیسز) کی وجہ سے اسے طویل عرصے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ 2021 میں جیسلمیر میں 55ویں جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں اس پر اصلاحات کی بات ہوئی تھی، لیکن 148 اشیاء پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ ان اشیاء کو اب اگلی کونسل میٹنگ میں دوبارہ زیر بحث لایا جائے گا۔
وزیرداخلہ امت شاہ کا اہم کردار
چونکہ اس معاملے میں ریاستوں کو سیاسی تحفظات لاحق ہیں، اس لیے امت شاہ کا اہم رول ہوگا۔ وہ ماضی میں بھی مہنگائی، نجکاری اور دیگر اہم اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں۔ امکان ہے کہ ان کی موجودگی ریاستوں کو قائل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی تاکہ آئندہ کونسل میٹنگ میں ووٹنگ سے پہلے اتفاق رائے قائم ہو سکے۔
وزیر داخلہ کی قیادت میں جی ایس ٹی شرحوں کی درجہ بندی میں بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ 12 فیصد سلیب کو ختم کر کے سادہ ڈھانچہ تیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، جس کا مقصد معیشت میں شفافیت اور پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ تاہم، ریونیو میں بھاری کمی کا خدشہ اور ریاستوں کی رضامندی اس اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

