Bharat Express DD Free Dish

Primary School Merger: یوپی حکومت کوہائی کورٹ سے بڑی راحت، 5000 اسکولوں کے انضمام کے خلاف عرضی خارج

اترپردیش حکومت کوہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے 5000 پرائمری اسکولوں کے انضمام کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی درخواستیں خارج کردیں۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ قدم وسائل کے بہتراستعمال اورتعلیم کے معیارمیں بہتری کے لئے اٹھایا گیا ہے، جسے عدالت نے ایک پالیسی سمجھا اوراسے درست قراردیا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی میں 5000 اسکولوں کے انضمام کے خلاف داخل عرضی خارج کردی۔

اترپردیش حکومت کو ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ کی سنگل بینچ نے ریاستی حکومت کے 5000  پرائمری اسکولوں کے انضمام کے فیصلے کے خلاف داخل عرضیوں کوخارج کردیا ہے۔ جسٹس پنکج بھاٹیا کی صدارت والی سنگل بینچ نے 4 جولائی کواس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اورآج اسے سناتے ہوئے حکومت کے فیصلے کوجائزٹھہرایا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ طلباء کے مفاد میں ہے۔ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ یہ غیرآئینی یا بدنیتی پرمبنی نہ ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کا یہ قدم تعلیمی معیارکوبہتربنانے اوروسائل کے بہتراستعمال کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ درحقیقت، یوپی کے بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے 16 جون 2025 کوایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں طلباء کی تعداد کی بنیاد پرہزاروں پرائمری اسکولوں کونزدیکی اپرپرائمری یا کمپوزٹ اسکولوں کے ساتھ ضم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

طلباء کی کم تعداد والے اسکولوں میں وسائل کی بربادی

حکومت نے دلیل دی کہ کم طلبا کی تعداد والے اسکولوں میں وسائل ضائع کئے جا رہے ہیں۔ انضمام سے اساتذہ اورانفراسٹرکچرکا بہتر استعمال ہوگا، جس سے بچے معیاری تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ اس حکم کے خلاف اساتذہ کی تنظیموں اورکچھ والدین نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ درخواست گزاروں نے دلیل دی تھی کہ اسکولوں کے انضمام سے دیہی علاقوں کے بچوں کی تعلیم متاثرہوگی، کیونکہ انہیں اسکول پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انضمام سے متاثرہوسکتی ہیں اساتذہ کی ملازمتیں 

عرضی گزاروں نے بھی ترک دیا تھا کہ انضمام سے اساتذہ کی نوکریاں بھی متاثرہوسکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے ان دلیلوں کوخارج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ پالیسی سے متعلق فیصلہ بچوں کے وسیع تر مفادات کو دھیان میں رکھ کرلیا گیا ہے۔ عدالت ایسے معاملوں میں مداخلت نہیں کرسکتی، جب تک کہ فیصلہ واضح طور پر غیرآئینی یا بدنیتی پر مبنی نہ ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔