Urdu Conclave 2026

Deadly traffic jam on the outskirts of Indore: اندور کے مضافات میں لگا جان لیوا جام، 30 گھنٹے سے زیادہ تک لگے رہے جام میں تین افراد کی موت

اپوزیشن کانگریس لیڈران بشمول دیواس ضلع صدر منوج راجانی اور ریاستی ترجمان اے چورسیا نے ہر سوگوار خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے۔

فائل فوٹو۔

تقریباً آٹھ کلومیٹر طویل ٹریفک جام، جو جاری چھ لین پل کی تعمیر، نامکمل سروس روڈز اور مناسب ٹریفک ڈائیورشن پلان کی عدم موجودگی کی وجہ سے 32 گھنٹے تک لگا رہا، مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے سب سے ترقی یافتہ شہر اندور کے مضافات میں جمعرات اور جمعہ کو تین افراد کی موت کا باعث بنا۔

متاثرین میں 65 سالہ کسان کمل پنچال، 55 سالہ کینسر کے مریض بلرام پٹیل اور 32 سالہ سیکیورٹی گارڈ سندیپ پٹیل شامل ہیں۔ یہ سبھی ٹریفک کی طویل الجھنوں میں پھنسے ہونے کے باعث صحت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق بیجل پور (اندور) کے متوفی کسان کمل پنچال کے بیٹے وجے پنچال نے بتایا کہ ’’میں اپنے والد، والدہ اور بیوی کے ساتھ دیواس ضلع میں اپنی متوفی خالہ کی تیرہویں میں میں شرکت کے لیے جا رہا تھا، جب ہم دو گھنٹے تک جام میں پھنس گئے، جب کہ منگلیا اور ارجن بروڈا کے درمیان اندور-دیواس بائی پاس کے ذریعے سفر میں 15-20 منٹ لگتے ہیں۔‘‘

’’انتظامیہ کتنی جانیں لے گی؟‘‘، متوفی کے بیٹے کا سوال

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’جام کے درمیان میرے والد نے اچانک گھٹن محسوس کی اور سینے میں درد کی شکایت کی، ہمیں مقامی لوگوں کی مدد سے جام سے باہر نکلنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگا، کیوں صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ جب تک ہم دیواس کے ہسپتال پہنچے، ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اسی جام میں مزید دو افراد کی موت ہو گئی۔ انتظامیہ کتنی جانیں لے گی؟‘‘

وہیں دوسرے متاثرین میں بلرام پٹیل، ایک 55 سالہ کینسر کا مریض تھا، جو شاجاپور ضلع کے شوجال پور سے تھا، اندور کے ایک اسپتال جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی موت ٹریفک میں اس وقت ہوگئی جب دونوں آکسیجن سلنڈر، جن پر منحصر تھا، تاخیر کی وجہ سے ختم ہو گئے۔‘‘ ایک 32 سالہ سیکیورٹی گارڈ سندیپ پٹیل بھی اسی جام میں پھنسنے کے دوران سینے میں درد کے باعث فوت ہوگیا۔ اس کے اہل خانہ اسے اندور کے منگلیا کے راستے اسپتال لے گئے، لیکن اسپتال پہنچنے پر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

جانیے کیوں لگا ہے جام؟

واضح رہے کہ بڑے پیمانے پر جام پل کی تعمیر کے کام کی وجہ سے شروع ہوا۔مناسب روٹ ڈائیورژن پلان کی عدم موجودگی نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ جمعرات کی دوپہر سے جمعہ کی رات تک 30-32 گھنٹے کے عرصے میں، سڑکوں کی حالت تیزی سے خراب ہوتی گئی۔ ان بھاری گاڑیوں نے، جو چھوٹی ٹریفک کے لیے تنگ گلیوں کی طرف موڑ دی گئیں، مزید نقصان پہنچایا۔ وہیں قریبی دیہاتوں سے گزرنے کے لیے کوئی متبادل راستہ تیار نہیں کیا گیا، جس سے ٹریفک کا بحران مزید بڑھ گیا۔

عوامی غم و غصے اور میڈیا کی توجہ کے بعد، اندور کے ضلع کلکٹر آشیش سنگھ نے جمعہ کو NHAI، ٹریفک پولیس، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) اور اندور میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی۔ میٹنگ میں طے شدہ کلیدی اقدامات میں پیور بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے تباہ شدہ سروس لین کی فوری مرمت، ٹریفک مینجمنٹ کے لیے انٹر ڈپارٹمنٹل کوئیک ریسپانس ٹیموں (کیو آر ٹی) کی تشکیل، بھاری گاڑیوں کو متبادل راستوں سے اندور سے باہر موڑنا اور پانی بھرنے سے بچنے کے لیے ٹریفک اور پانی کے نکاسی کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرنا شامل ہے۔

کانگریس لیڈر نے کیا مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ کے معاوضے کا مطالبہ

دریں اثنا اموات سے ناراض اپوزیشن کانگریس لیڈران بشمول دیواس ضلع صدر منوج راجانی اور ریاستی ترجمان اے چورسیا نے ہر سوگوار خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے اہلکاروں اور پل کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔