گجرات کے ضلع بھروچ میں مہاتما گاندھی نریگا اسکیم (MNREGA) سے وابستہ 7.30 کروڑ روپے کے بڑے مالی گھوٹالے میں کانگریس کے نائب صدر ہیرا جوٹوا اور ان کے بیٹے دگ وجے جوٹوا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک رسمی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس کے بعد بھروچ پولیس نے خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تشکیل دی تھی۔
پولیس کے مطابق یہ گھوٹالہ تین تعلقوں میں ہوا، جہاں دو فرمز جالارام انٹرپرائز اور مرلی دھر انٹرپرائز کو کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ تاہم ان کمپنیوں نے ناقص اور ناکافی سامان فراہم کیا جب کہ بلز میں مقدار بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔ بھروچ کے ایس پی میور چاوڈا نے میڈیا کو بتایا کہ کاغذات پر اگرچہ کمپنیاں کسی اور کی ملکیت دکھائی گئی ہیں، لیکن حقیقت میں اصل فائدہ اٹھانے والے ہیرا جوٹوا اور ان کے ساتھی ہیں۔
پولیس نے کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد کیا گرفتار
پولیس نے ہیرا جوٹوا اور ان کے بیٹے کو گزشتہ رات گیر سومناتھ سے بھروچ لا کر پوچھ گچھ کی۔ کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد ہیرا جوٹوا کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر راجیش ٹیلر نامی ایک آؤٹ سورس ملازم کو بھی حراست میں لیا گیا، جو ہنسوت TDO دفتر سے وابستہ تھا۔ بعد ازاں ہیرا جوٹوا کے بینک ریکارڈز کی جانچ پر معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا دگ وجے بھی مالی لین دین میں ملوث ہے، جس کی بنا پر اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔
یہ گھوٹالہ اس وقت سامنے آیا، جب گرام وکاس ایجنسی کے پروجیکٹ آفیسر نے شکایت درج کرائی۔ SIT نے متعدد دیہاتوں کا دورہ کر کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور جعلی بلوں و کاغذات کا سراغ لگایا۔ ہیرا جوٹوا گجرات کانگریس کا نمایاں چہرہ ہیں۔ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جوناگڑھ سے امیدوار رہے اور 2022 میں کیشود سے اسمبلی چناؤ لڑ چکے ہیں۔ وہ 2019 سے 2023 تک کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے اور اس وقت پارٹی کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


