پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اب حکومتِ ہند نے بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا ندی کے پانی کے معاہدے کو بھی ازسرنو طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اگلے سال ختم ہونے والا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے بنگلہ دیش کو آگاہ کیا ہے کہ ہندوستان کو اپنی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ پانی درکار ہے۔ نیا معاہدہ غالباً مختصر مدت کا ہوگا، جس کی مدت 10 سے 15 سال کے درمیان کی ہو سکتی ہے۔ اس قلیل مدتی معاہدے سے دونوں ممالک کو لچک اور نئے حالات کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی سہولت میسر آئے گی۔
ہندوستان کو ہے اضافی پانی کی ضرورت، اس لیے معاہدے پر نظرِ ثانی ضروری: حکومت
گنگا آبی معاہدہ 12 دسمبر 1996 کو ہوا تھا، جس کا مقصد پانی کی تقسیم کو خشک موسم کے دوران، خصوصاً فرکّا بیراج کے اطراف میں، منصفانہ بنانا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ’’پہلگام حملے سے قبل ہم اس معاہدے کو مزید 30 سال کے لیے توسیع دینے کے خواہش مند تھے، لیکن اس کے بعد حالات یکسر بدل گئے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ مئی کے اوائل میں پہلگام حملے کے بعد بھارتی وفد نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور اپنے ہم منصبوں کو آگاہ کیا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کے پیشِ نظر معاہدے پر دوبارہ بات چیت ضروری ہو گئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک معمول کی ملاقات تھی، جو سال میں دو بار ہوتی ہے، لیکن اس بار ہمیں اپنے خدشات واضح طور پر ظاہر کرنے کا موقع ملا، خصوصاً پانی کی بڑھتی ہوئی گھریلو ضروریات کے حوالے سے، جو نئے معاہدے کی شرائط پر اثرانداز ہوں گی۔‘‘ داخلی دستاویزات کے مطابق فرکّا بیراج سے لگاتار 40,000 کیوسک پانی ایک فیڈر کنال کے ذریعے کولکاتا پورٹ ٹرسٹ (اب شیاما پرساد مکھرجی پورٹ) میں ڈالا جاتا تھا۔
افسر نے بتایا کہ ’’1996 کا معاہدہ اس نظام میں خلل ڈالنے کا باعث بنا، جس کے نتیجے میں ڈھلوان کی خرابی، بیڈ ایروژن (نہر کی تہہ کا کٹاؤ) اور شدید سلٹ جمع ہونے کے مسائل پیدا ہوئے، جس سے بندرگاہ کی آبی گزرگاہ کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ وہاں موجود این ٹی پی سی پلانٹ کو بھی پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔‘‘ فی الوقت معاہدے کے تحت بھارت اور بنگلہ دیش دونوں کو خشک موسم (11 مارچ سے 11 مئی) کے دوران باری باری 10 دنوں کے لیے 35,000 کیوسک پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ بھارت اب اسی عرصے کے دوران 30,000 سے 35,000 کیوسک اضافی پانی طلب کر رہا ہے، تاکہ اپنی ترقیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
مغربی بنگال کی حکومت نے بارہا اس معاہدے پر از سرِ نو غور کا کیا ہے مطالبہ
اس معاملے میں مرکزی حکومت کو مغربی بنگال حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے، جسے اس سے اصل فائدہ ہوگا۔ داخلی مشاورت میں بہار نے بھی گنگا کے اضافی پانی کی مانگ پر زور دیا ہے تاکہ پینے کی اور زرعی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اس سلسلے میں ایک اندرونی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں مغربی بنگال کا ایک سینئر افسر بھی شریک تھا اور اس نے اس ضرورت کی تصدیق کی۔ ماضی میں مغربی بنگال حکومت نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ہندوستان کی ضروریات کو نظرانداز کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


