وزیر دفاع راجناتھ سنگھ۔ (فائل فوٹو)
آپریشن سنور کے بعد پہلی بارہندوستان اورپاکستان کے وزیردفاع کا آمنا سامنا ہوگا۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ اس ماہ کے آخرمیں چین کا دورہ کریں گے، جہاں شیڈونگ صوبہ کے کنگداؤ میں پاکستانی وزیردفاع سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ مرکزی وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا یہ دورہ 24 سے 25 جون کوہوسکتا ہے۔ یہ اطلاع وزارت دفاع کے ذرائع سے موصول ہوئی ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ گلوان جھڑپ کے بعد ہندوستانی وزیردفاع راجناتھ سنگھ کی ملاقات چین کے وزیردفاع ایڈمرل ڈونگ جون سے ہونے جا رہی ہے توٹھیک اسی طرح آپریشن سندورکے بعد پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف کے ساتھ ملاقات ہونے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے۔ گلوان جدوجہد کے بعد اب تک چینی لیڈران کی ملاقات ہندوستان کے لیڈران سے کسی تیسرے ملک میں ہی ہوئی ہے۔
چین میں ہوگی SCO کے وزیردفاع کی میٹنگ
وزیردفاع راجناتھ سنگھ چین میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزیردفاع کی میٹنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس میٹنگ میں پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف بھی شامل ہوں گے۔ قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ کیا راجناتھ سنگھ کی پاکستان کے وزیردفاع سے بات چیت ہوگی یا نہیں؟ ہندوستان اورپاکستان سال 2017 سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ اس تنظیم میں روس، چین، قزاقستان، کرغزجمہوریہ، تاجکستان، ازبکستان، ایران اوربیلاروس بھی شامل ہیں۔
پوری دنیا کی توجہ SCO میٹنگ پرمرکوز
اسرائیل اورایران کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ اسی درمیان ایس سی اوکی میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ پوری دنیا کی نظراس بات پرمرکوز رہنے والی ہے۔ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران چین نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ جب ہندوستان نے پاکستان میں موجود دہشت گردانہ ٹھکانوں پرحملہ کرنا شروع کیا تھا تو پاکستان نے میڈ ان چائنا کی میزائلوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ابھی بھی ایل اے سی پر3488 کلومیٹرپر کشیدگی برقرارہے۔ چینی فوجی بھاری ہتھیاراورمیزائل کے ساتھ موجود ہیں۔ سرحد پرچین سڑک بنانے کے ساتھ ہی مسلسل ہائی ٹیک گاؤں کو بسا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


