وزیر اعظم نریندر مودی کے دو روزہ دورۂ قبرص کے دوران ایک جذباتی لمحہ اور حیران کن منظر سامنے آیا، جب نکوسیا سٹی کونسل کی رکن میکائیلا کیتھریوٹی ملاپا نے ہندوستانی وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے ان کے پاؤں چھو کر احترام کا اظہار کیا۔ اس منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائر ہو رہی ہے۔
یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا، جب وزیر اعظم مودی قبرص کے صدر نکوس کے ساتھ ملک کے تاریخی جنگ بندی لائن کے علاقے کا دورہ کر رہے تھے۔ وزیر اعظم مودی، جنھوں نے شائستگی کے ساتھ ماضی میں کئی بار خواتین کو اپنے پاؤں چھونے سے روکا ہے، اس بار بھی ملاپا کو آشیرواد دیتے ہوئے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آئے۔
First we saw Papua New Guinea PM James Marape touching @narendramodi ji’s feet during his visit to the island nation and now Michaela Kythreoti Mhlapa, Member of the Council of Nicosia’s gesture welcoming PM Modi is a reflection of their great respect and admiration for India’s… pic.twitter.com/bHMTpdwJ0I
— C.R.Kesavan (@crkesavan) June 16, 2025
وزہر اعظم مودی نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو عالمی سطح پر نئی اونچائیوں پر پہنچایا: سی آر کیسون
اس واقعے کی ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان سی آر کیسون نے انسٹاگرام پر لکھا ’’پہلے پاپوا نیوگینی کے وزیر اعظم جیمز ماراپے نے پی ایم مودی کے پاؤں چھو کر احترام کا اظہار کیا تھا اور اب سائپرس سٹی کونسل کی ممبر میکائیلا کی طرف سے کیا گیا یہ عمل ہندوستانی ثقافت، روایت اور تہذیب کی عالمی تعریف کی علامت ہے۔ پی ایم مودی نے بھارت کی طاقت کے ساتھ ساتھ اس کی ثقافت اور تہذیب کو بھی عالمی سطح پر نئی اونچائی بخشی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پی ایم مودی کے لیے اس طرح احترام کا اظہار کیا گیا ہو۔ مئی 2023 میں جب پی ایم مودی پاپوا نیو گینی کی راجدھانی پورٹ مورسبی پہنچے تھے تو وزیر اعظم جیمز ماراپے نے بھی ان کے پاؤں چھو کر ان کا استقبال کیا تھا اور انھیں ایک ’’عظیم لیڈر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے احترام کا اظہار کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


