ایران اور اسرائیل کے درمیان مسلسل تیسرے روز بھی کشیدگی جاری ہے۔ ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں امریکہ کی حمایت شامل ہے۔ اتوار کے روز غیر ملکی سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک “جائز دفاعی حق” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی سرخ لائنوں کو پار کیا ہے، جس کے بعد ایرانی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران نے امریکہ پر مبینہ حمایت کا الزام عائد کیا
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ان حملوں کے پیچھے امریکہ کی حمایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر امریکہ کی ہری جھنڈی اور عملی مدد نہ ہوتی تو اسرائیلی حملے ممکن ہی نہ تھے”۔
ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ ان حملوں کی مذمت کرے تاکہ اپنی نیک نیتی کو ثابت کر سکے۔ تاہم ایران کو امریکہ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں واضح کیا گیا کہ امریکہ ان اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں تھا۔ “ہم جنگ نہیں چاہتے مگر مجبور ہوئے تو پیچھے نہیں ہٹیں گے”
ایران یورینیم کی افزودگی 60 فیصد سے زائد کی سطح پر جاری رکھے گا
ایرانی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ اسرائیل جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اہم شخصیات کو نشانہ بنا رہا ہے اور سائنس دانوں کے قتل اور فوجی حملے اسی مقصد کے تحت کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی 60 فیصد سے زائد کی سطح پر جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ “تہران جنگ کا دائرہ وسیع نہیں کرنا چاہتا، مگر اگر مجبور کیا گیا تو پیچھے نہیں ہٹے گا”۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری مفاعلات کے قریب علاقوں کو فوری طور پر خالی کر دیں۔ یہ سارا تناؤ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کے اندر کئی تنصیبات پر شدید فضائی حملے کیے، جن میں جوہری تنصیبات، فوجی اڈے، اعلیٰ فوجی کمانڈر اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب امریکہ اور ایران کے درمیان چھٹے دور کے جوہری مذاکرات آج مسقط میں متوقع تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


