وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کی سہ پہر قبرص پہنچ گئے ہیں، جو کہ کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کو کینیڈا میں ہونے والی G7 چوٹی کانفرنس سے پہلے ایک اہم اسٹاپ اوور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر ہندوستان کی نئی توجہ کا عکاس ہے۔
پی ایم مودی کا لارناکا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس نے رسمی استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی کے اس دورے کو ہندوستان اور قبرص دونوں کے سفارتی ذرائع نے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم مودی قبرص کے صدر کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کرنے والے ہیں۔ قبرص کے دورے کو ہندوستان کی ابھرتی ہوئی خارجہ پالیسی کے اسٹریٹجک جزو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، جو کہ یورپ اور بحیرہ روم میں چھوٹی لیکن جغرافیائی طور پر اہم اقوام کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
متعدد امور میں تعاون کو بڑھانے پر ہے توجہ
ایجنڈے کے اہم امور میں تجارت اور سرمایہ کاری، آئی ٹی اور اختراعات، دفاع، جہاز رانی، قابل تجدید توانائی اور عوام کے درمیان تعلقات میں تعاون کو بڑھانا شامل ہے۔ دونوں رہنما بحری سلامتی اور مغربی ایشیا کی صورت حال سمیت عالمی اور علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
قبرص کے صدر نے دی تھی اس دورے کی دعوت
واضح رہے کہ پی ایم مودی صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کی دعوت پر قبرص کا دورہ کر رہے ہیں اور تقریباً 100 عہدیداروں کا ایک بڑا وفد بھی ان کے ساتھ ہے۔ قبرص میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن وزیر اعظم مودی کے متوقع دورے کو لے کر جوش و خروش سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کے باہر کھڑے تھے۔
واضح رہے کہ ہندوستان اور قبرص کے درمیان روایتی طور پر 1962 میں تعلقات کے قیام کے بعد سے مضبوط سفارتی تعلقات رہے ہیں۔ قبرص نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیر اور دیگر اہم مسائل پر ہندوستان کے موقف کی مسلسل حمایت کی ہے۔ سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ وزیر اعظم مودی قبرص میں ہندوستانی تارکین وطن کے سے خطاب اور بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ تعداد میں کم ہونے کے باوجود وہاں ہندوستانی کمیونٹی مقامی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور کاروباری شعبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

