Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump bans travel from these 12 countries : ڈونلڈ ٹرمپ کا چونکا دینے والا فیصلہ، 12 ممالک کے شہریوں کے سفر پر پابندی، امریکا میں نہیں ملے گی انٹری

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے لوگ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر امریکا میں رہتے ہیں۔ اس پر بھی اب سختی کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے افغانستان اور ایران سمیت کل 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی  ہے۔  ڈونلڈٹرمپ نے حال ہی میں ایک اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت یہ قدم دہشت گردی سمیت دیگر خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔  ڈونلڈٹرمپ حکومت کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کے اعلان کے مطابق افغانستان، میانمار، چاڈ، جمہوریہ کانگو، ایکٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیتی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے ساتھ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا کے شہریوں کے داخلے پر جزوی پابندی ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 ممالک پر پابندی کیوں لگائی؟

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے پابندی کے دائرہ کار کا فیصلہ کرتے ہوئے خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے اہداف پر پوری توجہ دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے لوگ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر امریکا میں رہتے ہیں۔ اس پر بھی اب سختی کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔ امریکہ کا یہ اعلان 9 جون سے نافذ العمل ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ سفری پابندی سے متعلق فیصلہ پہلے ہی لے چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے ،جب ٹرمپ نے سفری پابندی سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ لیا ہو۔ وہ پہلے بھی ایسا کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے 2017 میں اپنے دور حکومت میں کچھ مسلم ممالک پر ایسی ہی پابندیاں لگائی تھیں۔ ڈونلڈٹرمپ کے اس فیصلے نے 2017 میں ہزاروں سیاحوں، تاجروں اور دیگر لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔اس دوران کئی لوگ سفر مکمل کیے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کو بھی باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read