سی آر پی ایف جوان کے جاسوسی کے الزام میں پکڑے جانے کے بعد اب اس معاملے کی کمان قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سنبھال لی ہے۔ ہفتہ کو این آئی اے نے پاکستان سے جڑے جاسوسی ریکیٹ کی تحقیقات کے حصے کے طور پر ملک بھر کی 8 ریاستوں میں 15 مقامات پر چھاپے مارے۔
آٹھ ریاستوں میں این آئی اے کے چھاپے
جن ریاستوں میں یہ چھاپے مارے گئے ان میں دہلی، مہاراشٹر (ممبئی)، ہریانہ، اتر پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، آسام اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ یہ چھاپے ان لوگوں کے گھروں اور ٹھکانوں پر مارے گئے جن کا پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے تعلق کا شبہ ہے۔این آئی اے کے مطابق چھاپوں کے دوران ایجنسی کو کئی الیکٹرانک آلات، خفیہ دستاویزات اور مشتبہ مالیاتی لین دین کے ریکارڈ ملے ہیں۔ اب ان تمام مواد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ اس جاسوسی نیٹ ورک کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا، جب سی آر پی ایف کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر موتی رام جاٹ کو خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ این آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موتی رام 2023 سے پاکستانی ایجنٹوں کو حساس معلومات دے رہا تھا اور اس کے بدلے وہ ہندوستان کے مختلف ذرائع سے رقم حاصل کرتا تھا۔
ہریانہ کے جند پہنچی این آئی اے
این آئی اے کی ٹیم نے کپڑے کے تاجر کشش کوچر کے گھر پر چھاپہ مارا۔ کشش کوچر کے بینک اکاؤنٹ سے دو آن لائن لین دین کے ذریعے ایسے شخص کو 15000 روپے بھیجے گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ دہلی کے چاندنی چوک میں ایک دکان کے مالک کے ساتھ کپڑے کا کاروبار کرتا ہے۔ دکان کے مالک نے رقم بھیجنے کے لیے اسے ایک موبائل نمبر دیا تھا۔
این آئی اے نے کشش کے دبئی سفر کا ریکارڈ بھی دیکھا، جس کے بعد وہ تحقیقات کے دائرے میں آیا۔ اب ٹیم کا کشش کے بیانات چاندنی چوک کے دکان کے مالک سے میچ کرے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ سی آر پی ایف جوان موتی رام جاٹ کو 20 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑپیں: ایل پی جی سلنڈر کی قیمت ہوئی کم، ہوائی سفر ہوگا سستا، ملک میں آج سے یہ 5 بڑی تبدیلیاں نافذ
سی آر پی ایف نے کارروائی کی
سی آر پی ایف نے اسے نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔ این آئی اے اس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور کیس انڈین جسٹس کوڈ، آفیشل سیکرٹس ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس سازش میں مزید کئی چہرے ملوث ہو سکتے ہیں اور مزید تفتیش جاری رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

