اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں عدالت نے پلکیت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکیت گپتا کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ انکیتا کے قاتلوں کو سزا کے اعلان کے بعد ان کے والدین جذباتی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ ملزمان کو سزائے موت دی جائے گی۔ لیکن انہیں جو سزا ملی ہے، اس سے انکیتا کی روح کو کچھ سکون ملا ہوگا۔
عدالت نے جمعہ کو انکیتا قتل کیس میں 160 صفحات کا فیصلہ سنایا۔ جس کے بعد انکیتا کے قاتلوں کی آنکھوں میں خوف صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ عدالت میں کل 236 شواہد پیش کیے گئے۔ دفاع کی جانب سے بھی گواہی دی گئی اور 9 شواہد عدالت میں رکھے گئے۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جمعہ کو اس معاملے میں کل 160 صفحات میں یہ فیصلہ لکھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست بھر میں ایک بار پھر اس قتل کی بحث شروع ہوگئی ہے۔
سماعت دو سال آٹھ ماہ تک جاری رہی
آپ کو بتاتے چلیں کہ انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں تقریباً دو سال آٹھ ماہ تک جاری عدالتی کارروائی کے دوران 47 گواہوں کو گواہ بنایا گیا تھا۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی، ایس آئی ٹی نے 16 دسمبر کو عدالت میں 500 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں اس وقت تقریباً 97 گواہ بنائے گئے تھے، وہیں استغاثہ کو عدالت میں کل 47 گواہوں کی گواہی ملی، اس کے مقابلے میں ملزم کی طرف سے دفاع میں صرف چار گواہ پیش کیے گئے۔
فریقین کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات
مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے کل 130 دستاویزی ثبوت بشمول تحریر، تصاویر وغیرہ عدالت میں پیش کیے گئے۔ اس کے ساتھ عدالت میں 106 اعتراضات کے شواہد بھی دکھائے گئے۔ جہاں تک دفاع کا تعلق ہے تو انہوں نے اس کیس میں نو دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کر کے ملزم کی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن استغاثہ کے طویل دلائل اور ان شواہد کی بنیاد پر عدالت نے تینوں ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
اس کیس میں دفاع اور استغاثہ کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی 30 سے زائد مثالیں پیش کی گئیں، ان میں سے کچھ میں قانونی نظام بھی شامل تھا۔ ان میں سے 20 فیصلوں کو استغاثہ نے بطور نظیر پیش کیا۔ دفاع نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ اس طرح کی 10 سے زیادہ مثالوں اور قانونی نظاموں پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ نظیریں ان کے حقائق کو مضبوط کرتی نظر آئیں۔
اس فیصلے کے بعد انکیتا کے والد اور والدہ کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ ملزم کو سزائے موت سنائی جائے گی لیکن عدالت نے جو سزا دی ہے اس سے ہماری بیٹی کی روح کو کچھ سکون ملے گا۔ اس معاملے میں ملزمان کے پاس ہائی کورٹ جانے کا اختیار ہے، جس میں ملزمان کی جانب سے اپیل کی جا سکتی ہے۔ کئی سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
