Bharat Express DD Free Dish

DDA officer found guilty of contempt of court: پیڑوں کی کٹائی معاملے میں ڈی ڈی اے افسر توہین عدالت کے قصوروار قرار، سپریم کورٹ نے عائد کیا جرمانہ

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ نے کہا کہ ڈی ڈی اے کے افسروں نے ریج علاقے میں پیڑوں کی کٹائی کے لیے سپریم کورٹ کی اجازت نہیں لی ہے جو کہ 1996 کے ایک فیصلے کے تحت ضروری تھی۔

دہلی کے محفوظ ریج علاقے میں بغیر اجازت پیڑ کاٹے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ڈی ڈی اے) کے افسروں کو راجدھانی کے ریج علاقے میں پیڑوں کی کٹائی کے لیے توہین عدالت کا مرتکب ٹھہراتے 25000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پیڑوں کی کٹائی سڑک چوڑی کاری کے مقصد سے کی گئی تھی۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ ڈی ڈی اے کے افسروں نے علاقے میں پیڑوں کی کٹائی کی اجازت دینے سے پہلے سپریم کورٹ کی اجازت نہیں لی ہے اور عدالت کی توہین کی ہے جو کہ 1996 کے ایک فیصلے کے تحت ضروری تھی۔

یہ معاملہ گزشتہ سال 3 فروری 2024 کا ہے جب میدان گڑھی میں مرکزی مسلح افواج انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سی اے پی ایف آئی ایم ایس) تک سڑک چوڑی کرنے کے لیے ریج علاقے میں پیڑ کاٹے گئے تھے۔ بنچ نے پیڑوں کی کٹائی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور آئی اے ایس افسر سبھاشیش پانڈا کی طرف سے ڈی ڈی اے کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے طور پر احکام پر جان بوجھ کر عمل نہیں کرنے کا الزام لگانے والی توہین کی عرضی پر فیصلہ سنایا ہے۔

عدالت نے آگے وسیع شجرکاری منصوبہ کی دیکھ ریکھ کے لیے تین رکنی کمیٹی کی تشکیل اور پینل کو ہدایت دی ہے کہ وہ پہنچ راسطے کی دونوں طرف گھنے پیڑ لگانا یقینی کرے۔

واضح رہے کہ 21 جنوری کو عدالت نے اپنا حکم محفوظ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اسے عرضیوں میں مبینہ توہین کی سنگینی کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ڈی ڈی اے) کو ریج علاقے میں پیڑ کاٹے جانے پر سخت پھٹکار لگائی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ قومی راجدھانی میں پیڑ کاٹے جانے جیسے کام کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین کو یہ بتانے کو کہا تھا کہ کیا انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر پیڑ کاٹے ہیں؟ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ڈی ڈی اے کے 3 افسروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read