دہلی حکومت عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کرنے اور حکمرانی کو ان کے قریب لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت دارالحکومت کے تمام 11 ریونیو اضلاع میں “منی سیکریٹریٹ” قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تمام ضلع مجسٹریٹوں (ڈی ایم) کو اپنے اپنے اضلاع میں ان دفاتر کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مختلف دفتروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے
دہلی حکومت کا مقصد مختلف سرکاری محکموں جیسے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی)، دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی)، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور سماجی بہبود کو ایک ہی چھت کے نیچے لانا ہے تاکہ عوام کو ایک ہی جگہ پر اپنی ضروری خدمات حاصل ہو سکیں اور انہیں مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
مقامات کی شناخت کی ہدایت جاری کی گئی
ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ایسے مقامات کی شناخت کی جائے جہاں منی سکریٹریٹ قائم کیے جا سکیں تاکہ مختلف سرکاری خدمات کو عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔
11 ریونیو اضلاع میں تقسیم ہے دہلی
فی الحال دہلی 11 ریونیو اضلاع میں تقسیم ہے۔ ہر ضلع کی سربراہی ایک ڈی ایم کرتا ہے جو ایڈیشنل ڈپٹی مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ، تحصیلدار اور سب رجسٹرار کے ساتھ مختلف انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ ان دفاتر میں مجسٹریٹ، ریونیو، پراپرٹی رجسٹریشن اور قانونی دستاویزات کے اجراء جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔
ایک ہی چھت کے نیچے ہوں گے مختلف آفس
فی الحال دہلی سکریٹریٹ (ITO)، سول لائنز، کشمیری گیٹ اور دیگر علاقوں میں موجود سرکاری دفاتر کو منی سیکریٹریٹ کے ذریعے ضلعی سطح پر منتقل کر کے ان کا مرکزی نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، عوام کو اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کسی خاص مسئلے کے لیے کس محکمے سے رجوع کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص نالی کی شکایت کے لیے ایم سی ڈی کے پاس جائے اور وہاں سے معلوم ہو کہ یہ کام ڈی جے بی کے دائرے میں آتا ہے، تو اسے دوبارہ وہاں جانا پڑتا ہے۔ اگر یہ تمام محکمے ایک ہی عمارت میں ہوں تو شہری باآسانی دوسرے دفتر جا کر اپنا کام کروا سکتے ہیں۔
منی سکریٹریٹ کا مقصد انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا
اس وقت بیشتر سرکاری محکمے مختلف جگہوں پر واقع ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر جانا پڑتا ہے۔ ریونیو محکمہ کے ایک افسر کے مطابق، منی سکریٹریٹ کا مقصد انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوامی سہولت پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ یہ منی سیکریٹریٹ ضلعی سطح پر مختلف خدمات کو مربوط کرنے والے مراکز کے طور پر کام کریں گے۔
جنوب مغربی ضلع دہلی کا سب سے بڑا ضلع ہے، جو 420 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں 32 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ دوارکا میں منی سیکریٹریٹ کے لیے پہلے ہی ایک جگہ کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ افسر نے بتایا کہ اس ضلع کو کپسہیڑا، نجف گڑھ اور دوارکا میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس میں 77 دیہات شامل ہیں، جن میں سے کئی دہلی-ہریانہ سرحد پر واقع ہیں۔ ایک مرکزی سینٹر قائم ہونے سے یہاں کے عوام کو زبردست فائدہ ہوگا۔
منی سکریٹریٹ کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا جا رہا ہے
افسر کے مطابق، دوارکا منی سکریٹریٹ کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں 12 سے 13 سرکاری محکموں کے لیے جگہ مختص کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں ایم سی ڈی، پی ڈبلیو ڈی، ڈی جے بی، محکمہ صحت اور فلاحی محکمے شامل ہیں۔ دیگر اضلاع میں بھی ایسی جگہوں کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



