Bharat Express DD Free Dish

Amritsar Poisonous Alcohol Case: امرتسر میں زہریلی شراب پینے سے 14 افراد ہلاک، 6 کی حالت تشویشناک، علاقے میں خوف و ہراس

پولیس کو اس معاملے کا دیر رات پتہ چلا ،جس کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ اب پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ شراب کہاں سے لائی گئی تھی اور اس میں کیا ملایا گیا تھا۔

پنجاب کے امرتسر سے دل دہلا دینے والی خبر آئی ہے۔ یہاں مجیٹھا علاقے کے تین دیہاتوں میں زہریلی شراب پینے سے تقریباً 14 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جب کہ کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ پنجاب میں 3 سال میں زہریلی شراب کا یہ چوتھا بڑا سانحہ ہے۔ ذرائع کے مطابق بھنگالی اور مراری کلاں گاؤں کے تین تین نوجوان اور ٹھڈیوال گاؤں کے دو افراد کی موت ہوئی ہے۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ کچھ لوگوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد ڈپٹی کمشنر ساکشی ساہنی نے ان دیہات کا دورہ کیا ،جہاں زہریلی شراب پینے سے کئی لوگوں کی موت ہوئی تھی۔

پولیس کو بتائے بغیر آخری رسومات ادا کی گئیں

مجیٹھا کے ایس ایچ آفتاب سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام لوگوں نے اتوار کی شام ایک ہی جگہ سے شراب خرید کر پیی تھی۔ پیر کی صبح کچھ لوگوں کی طبیعت خراب ہونے لگی اور ان کی موت ہوگئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دیے بغیر لاشوں کو جلا دیا۔

پولیس کو اس معاملے کا دیر رات پتہ چلا ،جس کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ اب پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ شراب کہاں سے لائی گئی تھی اور اس میں کیا ملایا گیا تھا۔

علاقے میں خوف و ہراس

جائے وقوعہ پر خاموشی ہے اور گائوں میں خوف کا ماحول ہے۔ لوگ ناراض ہیں کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا، پھر بھی کچھ لوگوں نے معلومات چھپائی۔ پولیس اب غیر قانونی شراب کے نیٹ ورک کی بھی چھان بین کر رہی ہے۔

اہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے اور زہریلی شراب فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read