دہلی میں اگلے 15 دنوں تک کچھ راستوں پر ٹریفک کا مسئلہ ہوگا۔ ٹریفک پولیس نے گاڑی ڈرائیوروں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس کے مطابق ایس ڈی ایم/سوروپ نگر آفس (این ایچ-44، نالہ کے پاس) اور وجئے چوک (بُراڑی سائڈ) کے درمیان 10 مئی سے اگلے 15 دنوں کے لیے آمد و رفت بند رہے گی۔ ایڈوائزری کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کے ذریعہ کاٹھیا بابا راستے پر مرمت کا کام چل رہا ہے جس کی وجہ سے اس راستے پر ٹریفک متاثر رہے گی۔
Traffic Advisory
In view of road repair & re-carpeting work by PWD at Kathia Baba Marg (Swaroop Nagar–Burari Road), traffic movement will be restricted between SDM/Swaroop Nagar Office (near Nala at NH-44) and Vijay Chowk (Burari Side) from 10.05.2025 for 15 days.
Commuters are… pic.twitter.com/UHW3hVMvwF
— Delhi Traffic Police (@dtptraffic) May 10, 2025
اس وجہ سے گاڑی ڈرائیوروں کو تھوڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ یہاں سے گاڑیوں کو ڈائیورٹ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ایس ڈی ایم/سوروپ نگر نالہ روڈ سے آنے والے مسافر سی سی روڈ کے ذریعہ بھلسوا لینڈ فِل (کوڑا-کھتّہ) کی طرف جا سکتے ہیں۔ وہاں سے وہ جھنڈا چوک ہوتے ہوئے بُراڑی چوک پہنچ سکتے ہیں۔
بُراڑی جانے کے لیے سی سی روڈ کے علاوہ دوسرا متبادل بھی موجود ہے۔ اس کے لیے گاڑی ڈرائیور چوک سے گرجر چوک کا راستہ لے سکتے ہیں، اس کے بعد وجئے چوک ہوتے ہوئے بُراڑی جا سکتے ہیں۔ اسی طرح وجئے چوک سے آنے والے مسافر گرودوارہ روڈ کے ذریعہ گرجر چوک اور پھر جھنڈا چوک سے بھلسوا لینڈ فِل ہوتے ہوئے نالہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی طرف سے گاڑی ڈرائیوروں کو صلاح دی گئی ہے کہ سبھی لوگ روٹ ڈائیورزن کو دھیان میں رکھ کر ہی سفر کریں۔ ساتھ ہی انہیں متبادل راستوں کا استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دہلی ٹریفک پولیس کی طرف سے اپیل کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔ اس سے سڑکوں پر بھیڑ کم ہوگی اور ٹریفک صحیح طریقے سے چلتی رہے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی گاڑی کو مقررہ پارکنگ مقام پر ہی پارک کریں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی مشتبہ چیز یا شخص دکھائی دے تو فوراً اس کی اطلاع پولیس کو دیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



