Urdu Conclave 2026

What is ‘double capital punishment’?: کیا ہے’دوہری موت کی سزا‘؟ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک بھر میں سنسنی، وکیل نیرج کمار نے بتائے اس کے قانونی پہلو

نیرج کمار نے 2004 کے بدنام زمانہ دھننجے چٹرجی کیس کی مثال دی، جس میں مجرم کو 15 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے جرم میں دوہری سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ موجودہ کیس کی طرح کی صورتحال تھی۔ اس وقت بھی دونوں دفعات کے تحت جرم ثابت ہوا تھا اور عدالت نے حکم دیا تھا کہ مجرم کسی بھی حالت میں سزائے موت سے نہیں بچ سکتا۔

ایڈووکیٹ نیرج کمار

نئی دہلی: گجرات کے آنند ضلع کی ایک عدالت نے معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے گھناؤنے معاملے میں مجرم کو ’دوہری موت کی سزا‘ سنا کر پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس بے مثال فیصلے نے عام لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’دوہری سزائے موت‘ کیا ہے، یہ کن حالات میں دی جاتی ہے اور اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے لیے آئی اے این ایس نے سپریم کورٹ کے وکیل نیرج کمار سے خصوصی بات چیت کی۔ نیرج کمار نے اس سزا کے قانونی اور سماجی پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

نیرج کمار نے بتایا کہ اس معاملے میں دی گئی دہری موت کی سزا کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک کیس میں ملزم کو راحت مل جاتی ہے تو پھر بھی اسے دوسرے کیس میں سزائے موت ملے گی۔ دراصل، اس معاملے میں، ایک کیس POCSO (جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ) ایکٹ کے تحت ہے اور دوسرا آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی دفعہ 376 (ریپ) اور 302 (قتل) کے تحت ہے۔ جب ان دونوں دفعہ کے تحت جرم ’ریریسٹ آف دی ریئر‘ کے زمرے میں آتا ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو عدالت دونوں صورتوں میں سزائے موت سنا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سزا کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اگر اعلیٰ عدالت (ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ) مجرم کو ایک دفعہ کے تحت بری کر دے یا ثبوت کی کمی کی وجہ سے مقدمہ کمزور ہو جائے تو دوسری دفعہ کے تحت دی گئی سزا برقرار رہے اور مجرم کو سزا سے راحت نہ ملے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص کسی تکنیکی یا ثبوت سے متعلق غلطی کی وجہ سے سزا سے نہ بچ جائے۔

نیرج کمار نے 2004 کے بدنام زمانہ دھننجے چٹرجی کیس کی مثال دی، جس میں مجرم کو 15 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے جرم میں دوہری سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ موجودہ کیس کی طرح کی صورتحال تھی۔ اس وقت بھی دونوں دفعات کے تحت جرم ثابت ہوا تھا اور عدالت نے حکم دیا تھا کہ مجرم کسی بھی حالت میں سزائے موت سے نہیں بچ سکتا۔

ایڈووکیٹ نیرج کمار نے زور دے کر کہا کہ ٹرائل کورٹ عام طور پر سزا سناتی ہے یہاں تک کہ جب ملزمان کے خلاف دلائل 50 سے 60 فیصد مضبوط ہوں۔ لیکن، اس کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل کی جاتی ہے، جہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ استغاثہ کا کیس کتنا مضبوط تھا اور کیا سزا صحیح ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302 اور 376 کے ساتھ ساتھ POCSO ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دونوں کیس الگ الگ معاملات کی طرح تھے لیکن جرم ایک ہی شخص نے کیا تھا۔ چونکہ متاثرہ لڑکی نابالغ تھی اس لیے POCSO لاگو ہوا اور پھر عصمت دری اور قتل کی وجہ سے آئی پی سی کی دفعہ بھی لگائی گئی۔ اس وجہ سے، عدالت نے دونوں مقدمات میں الگ الگ موت کی سزا سنائی، جسے انگریزی میں ’ڈبل کیپٹل پنشمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مجرم کے پاس ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اختیار ہے۔ اس کے بعد صدر کے سامنے رحم کی درخواست کا آپشن بھی دستیاب ہوگا۔ لیکن اگر اعلیٰ عدالتیں دونوں صورتوں میں سزا کو درست سمجھتی ہیں تو پھر دہری موت کی سزا برقرار رہے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read