Kashmir Terror Attack: ٹورسٹ پونی اسٹینڈ کے چیئرمین رئیس احمد بھٹ کو پانچ سیاحوں کی جان بچانے کے لئے ‘پہلگام کے ہیرو’ کے طورپرسرفرازکیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بیسرن وادی میں حملے والی جگہ پر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر زخمی سیاحوں کی مدد کی، جو غیرمحفوظ تھے۔ رئیس احمد بھٹ سیاحوں کی مدد کے لئے اکیلے اپنے دفتر سے یہ سوچ کر باہرنکلے کہ اگر حملہ آور ابھی بھی یہاں ہیں اور ہم بھی مارے گئے تو کوئی بات نہیں۔
رئیس احمد بھٹ نے نیوزایجنسی اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”ہم یہاں ہوئے حادثہ کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے کل ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ ہم نہیں چاہتے کہ کشمیر میں ایسے حادثات ہوں، کیونکہ کشمیر 99 فیصد سیاحوں پر منحصر ہے۔ جب سیاح یہاں آتے ہیں تو ہمارا گزارا ہوتا ہے۔ ہم نے ان لوگوں کو بچایا جو حادثہ کے وقت ڈرے ہوئے تھے۔ گھوڑے والے جو بھٹک گئے تھے، ہم نے انہیں بھی ریسکیو کیا۔ یہاں کی پوری آبادی بہت پریشان ہے۔”
رئیس احمد بھٹ نے کئی سیاحوں کی بچائی جان
جیسے ہی رئیس احمد بھٹ کو کسی حادثہ کی اطلاع ملی، انہوں نے اپنے ساتھ 6 مقامی مزدور طبقہ کے کشمیریوں کو جمع کیا اوراس جگہ پر پہنچے، جہاں سیاحوں پرحملہ ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ “جب یہ حادثہ ہوا، میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا۔ دوپہر تقریباً 2:35 بجے مجھے ہمارے ایسوسی ایجشن کے جنرل سکریٹری کا پیغام ملا۔ جیسے ہی میں نے پیغام دیکھا، میں نے انہیں فون کیا، لیکن نیٹ ورک کی پریشانی تھی، اس لئے آوازواضح نہیں تھی۔ اس لئے، میں ہی چلا گیا۔ راستے میں مجھے دو یا تین لوگ ملے اورمیں نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ کل ملا کرہم پانچ یا 6 لوگ ہوگئے۔”
#WATCH | #PahalgamTerroristAttack | Pahalgam, J&K | Rayess Ahmad Bhat, Tourist Pony Stand President, Pahalgam, says, ” We condemn the incident that took place here…we even held a big protest yesterday. We don’t want such incidents to happen in Kashmir, because Kashmir is 99%… pic.twitter.com/SeKerfcrKr
— ANI (@ANI) April 26, 2025
بھٹ نے پریشان اورخوفزدہ سیاحوں کو پانی پلایا
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی وہ دہشت گردانہ حملے کی جگہ کے قریب پہنچے، لوگ کیچڑمیں سنے ننگے پیر دوڑرہے تھے اورمدد کے لئے چلّا رہے تھے۔ بھٹ نے کہا کہ ان کا دھیان ان لوگوں کومحفوظ جگہ پرپہنچانے پرتھا۔ انہوں نے ڈرے اورتھکے ہوئے سیاحوں کوپانی پلاکر ان کی پیاس بجھانے میں مدد کی۔ ہم نے جنگل سے آنے والے پانی کی فراہمی سے ایک پائپ توڑا اورانہیں پانی دیا، انہیں تسلی دی اوران سے کہا، ”اب آپ محفوظ علاقے میں ہیں، فکرنہ کریں۔”
35 سالوں میں پہلگام میں ایسے حادثات کبھی نہیں ہوئے
رئیس احمد بھٹ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سیاحوں کومددکرنے کے لئے تشدد زدہ مقام پردورہ کرنے پرآمادہ کیا، حالانکہ وہ خوفزدہ تھے۔ انہوں نے کہا، “پھرہم آگے بڑھتے رہے، بہت سے گھڑسوارخوف کے مارے نیچے اتررہے تھے۔ میں نے ان میں سے 5-10 لوگوں کو اپنے ساتھ واپس آنے کے لئے آمادہ کیا۔ موقع پرپہنچ کربھٹ ایک لاش دیکھ کرحیران رہ گئے اورکہا کہ ان کی زندگی کے 35 سالوں میں پہلگام میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا تھا۔
خواتین اپنے شوہروں کو بچانے کی لگا رہی تھیں گہار
انہوں نے بتایا کہ چاروں طرف لاشیں پڑی تھیں، کل 26 لوگ مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، “پہلی چیزجو میں نے دیکھی، وہ مین گیٹ پر ایک لاش تھی، وہ انٹری گیٹ سے سیاح داخل ہوتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا۔ میں 35 سال کا ہوں اور پہلگام میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔” انہوں نے مزید کہا، “پھر، جب میں اندرگیا تو میں نے ہرجگہ لاش دیکھی۔ صرف تین یا چار خواتین تھیں، جو ہم سے چپکی ہوئی تھیں، اپنے شوہروں کوبچانے کی گہارلگا رہی تھیں۔ بھاری دل سے ہم نے خود کواندرجانے کے لئے مجبورکیا۔ تب تک دوپہرکے تقریباً 3:20 بج چکے تھے۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

