وزارت خارجہ نے منگل کو بتایا کہ پرتگال نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ صدر دروپدی مرمو کے پرتگال کے دو روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سکریٹری (مغرب) تنمے لال نے کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ سمیت متعدد کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’دورے کے دوران پرتگالی قیادت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں طویل عرصے سے زیر التوا فوری اصلاحات پر زور دینے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں ہندوستان سب سے آگے رہا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مستقل رکن کے طور پر اقوام متحدہ کی اعلیٰ میز پر جگہ پانے کا حق دار ہے۔ ہندوستان کا استدلال ہے کہ 1945 میں قائم کی گئی 15 ملکی کونسل 21ویں صدی کے لیے موزوں نہیں ہے اور یہ عصری جغرافیائی سیاسی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔
لال نے کہا کہ پرتگال ہندوستان-یورپی یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ اور پرتگالی بولنے والے لوسوفون ممالک کے ساتھ مشغولیت میں بہت مضبوط تعاون کرتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ’’EU کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں حصہ داری کے زاویے سے پرتگال ایک بہت اچھا پارٹنر رہا ہے۔ یہ تعلق اس لیے مفید ہے کیوں کہ ہندوستان اور EU فی الحال ایف ٹی اے پر بات چیت کر رہے ہیں اور ہمارے پاس بین الوزارتی سطح پر تجارتی اور ٹیکنالوجی کونسل بھی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ پرتگال کی سابق وزیر اعظم ہند نژاد انتونیو کوسٹا، جو اس وقت یورپی کونسل کے صدر ہیں، ایف ٹی اے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ صدر جمہوریہ ہند کے اس دورے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے لال نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پچھلے کچھ سالوں میں کافی وسیع ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ صدر مرمو کا پرتگال کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے دوبارہ قیام کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
