جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی علاقے میں گزشتہ پانچ دنوں سے لگی شدید جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کی جدوجہد جاری ہے۔ اس ہولناک آگ میں اب تک کم از کم 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تیز ہواؤں اور خشک موسم کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
فائر فائٹرز اور درجنوں ہیلی کاپٹرز تعینات
آگ بجھانے کے لیے تقریباً 5,000 فائر فائٹرز، 560 سے زائد آلات اور درجنوں ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے ہیں، لیکن آگ تیزی سے گیوںگسانگ صوبے کے سانی چیونگ کاؤنٹی سے دیگر علاقوں تک پھیل رہی ہے۔ یہ آگ اب ہمسایہ علاقوں اندونگ، چیونگ سونگ، یونگ یانگ اور یونگ ڈاک تک پہنچ گئی ہے۔
‘سینٹرل ڈیزاسٹر اینڈ سیفٹی ہیڈکوارٹر’ کے مطابق، بدھ شام تک 24 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 20 اموات اوئی سونگ میں اور 4 سانی چیونگ میں ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 2 افراد اندونگ، 3 چیونگ سونگ، 6 یونگ یانگ اور 7 یونگ ڈاک سے تھے۔
نیوکلیئر پاور پلانٹ کو بھی خطرہ لاحق
تیز ہواؤں کے باعث آگ کے مشرقی ساحلی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے اولجن کاؤنٹی میں موجود ایک بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اچانک ہواؤں کی سمت تبدیل ہونے کے سبب آگ مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔
ادھر، اوئی سونگ میں آگ نے تاریخی گون مندر کو جلا کر خاکستر کر دیا، جو 681 عیسوی میں سیلا سلطنت کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے مندر میں موجود قومی خزانے پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے تھے۔
اب تک کی بدترین جنگلاتی آگ
صدر ہان ڈک سو نے اس تباہی کو جنوبی کوریا کی “اب تک کی بدترین جنگلاتی آگ” قرار دیا ہے۔ انہوں نے امدادی ٹیموں کو آگ پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق، آگ نے اب تک 17,000 ہیکٹر جنگلات اور 209 مکانات و فیکٹریوں کو تباہ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

