Bharat Express DD Free Dish

Nagpur Violence: ’’اگر آپ نفرت پھیلائیں گے تو ملک میں بدامنی پھیلے گی…‘‘، ناگپور تشدد معاملے میں کانگریس ایم پی عمران مسعود کا سی ایم فڑنویس پر زبانی حملہ

اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے کہا کہ ہم اس طرح کے ہر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ ایسا تشدد کیوں ہوا۔ بی جے پی میں کچھ لوگ ہیں جو نفرت پھیلاتے رہتے ہیں۔ ہم کہتے رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ناگپور تشدد پر کانگریس ایم پی عمران مسعود نے سی ایم فڑنویس کو گھیرا۔

ناگپور: سمبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے مقبرے کو مسمار کرنے پر جاری تنازعہ کے درمیان مہاراشٹر کی دوسری راجدھانی ناگپور میں دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہو گئیں، جس کے نتیجے میں پتھراؤ اور آگزنی  ہوئی۔ سی ایم دیویندر فڑنویس خود پورے واقعہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پولیس کمشنر کو کشیدہ حالات پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کی ہدایت دی ہے۔ وہیں، کانگریس ایم پی عمران مسعود نے فڑنویس کو شدید تنقید کا نشانے بناتے ہوئے نفرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

عمران مسعود نے کہا، ’’پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، وہ کیا کرے گی؟ یہ سب پولیس کی نگرانی میں ہو رہا ہے، یہ وزیراعلیٰ کا گھر ہے، اس لیے انہیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے، اگر آپ نفرت پھیلاتے ہیں تو ملک میں بد امنی پھیلے گی اور ترقی نہیں ہوگی، اگر انہوں نے حکومت بنائی ہے تو انہیں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے، لیکن وہ 4 سال پرانے مدعے کو کھود رہے ہیں۔‘‘

ہم ایسے تمام تشدد کی مذمت کرتے ہیں: وارث پٹھان

اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے کہا، ’’ہم اس طرح کے ہر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ ایسا تشدد کیوں ہوا۔ بی جے پی میں کچھ لوگ ہیں جو نفرت پھیلاتے رہتے ہیں۔ ہم کہتے رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ بی جے پی اورنگ زیب کے 400 سال پرانے مدعے کو اٹھا کر توجہ ہٹا رہی ہے۔‘‘

پولیس کمشنر رویندر سنگھل سمیت بڑی تعداد میں پولیس فورس علاقے میں موجود ہے۔ فی الحال سیکورٹی کی صورتحال قابو میں ہے۔ پتھراؤ کرنے والے 20 سے 25 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ پیر کی دوپہر ناگپور میں کچھ تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔ وہ ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے احتجاج کر رہے تھے، تبھی دو گروپوں کے درمیان معمولی تکرار ہو گئی۔ اسے کچھ ہی دیر میں حل کر لیا گیا۔

حالانکہ، بعد میں شام 7 سے 7.30 بجے کے درمیان ایک بڑا گروپ شیواجی چوک پہنچا اور نعرے بازی شروع کردی۔ وہ دوپہر میں ہونے والے احتجاج پر ناراض تھے۔ نعرے بازی شروع ہوتے ہی علاقے میں موجود ایک اور گروپ نے بھی نعرے بازی شروع کردی۔ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read