فائل فوٹو۔
مرکزی وزارت کھیل نے منگل کو ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی معطلی ختم کر دی۔ مرکزی حکومت نے بھی فیڈریشن کا مکمل اختیار فیڈریشن کے موجودہ صدر سنجے سنگھ کو دے دیا۔ سنجے سنگھ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق سربراہ اور بی جے پی لیڈر برج بھوشن شرن سنگھ کے قریبی ساتھی ہیں، جن پر چھ خواتین پہلوانوں نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ منگل کو وزارت کھیل نے اسپاٹ ویری فکیشن کمیٹی کے نتائج، فیڈریشن کے ذریعے احکامات کی تعمیل اور ’’ہندوستانی کھلاڑیوں‘‘ کے وسیع تر مفادات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈبلیو ایف آئی کی معطلی کو منسوخ کرتے ہوئے کشتی کے کھیل سے متعلق قومی ادارے کے طور پر اس کی شناخت بحال کر دی۔
اس وجہ سے ہوئی تھی فیڈریشن کی معطلی
واضح رہے کہ وزارت نے دسمبر 2023 میں فیڈریشن کو اس وقت معطل کر دیا تھا جب سنجے سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ کشتی کے لیے انڈر 15 اور انڈر 20 قومی چیمپئن شپ اتر پردیش کے گونڈا ضلع کے نندنی نگر میں ہوں گی۔ گونڈا اتر پردیش کے قیصر گنج حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کا گڑھ ہے۔
وزارت کھیل نے سنجے سنگھ کے اس فیصلے کو جلدی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فیڈریشن کا کام اس کے سابق عہدیداروں کے علاقے میں کیا جانا مناسب نہیں، جہاں پہلے کئی پہلوانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔ وزارت نے یہ بھی کہا تھا کہ نئی ریسلنگ فیڈریشن کھیل کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق عہدیداروں کے قابو میں ہے۔
وزارت کھیل نے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں
منگل کو اپنے بیان میں وزارت نے ہدایت کی ڈبلیو ایف آئی کے معطل، برخاست کیے گئے تنخواہ دار عہدیداروں کو فیڈریشن اور اس کے ذیلی محکموں سے دور رہنا چاہیے۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ فیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کو اس سلسلے میں چار ہفتوں کے اندر ایک حلف نامہ جمع کرانا ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
وزارت کھیل نے مزید کہا ہے کہ ’’ڈبلیو ایف آئی کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام بین الاقوامی مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب کھیلوں کے ضابطہ کی موجودہ دفعات اور اس سلسلے میں جاری کردہ دیگر تازہ ترین ہدایات کے ساتھ ساتھ UWW [یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ] کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ضوابط کے مطابق آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


