Bharat Express DD Free Dish

Citizenship granted under CAA in Assam: شہریت ترمیمی قانون کے تحت آسام میں دو افراد کو شہریت دی گئی، ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر چندر موہن پٹواری نے اسمبلی میں اعداد و شمار پیش کیے

چندر موہن پٹواری نے اسمبلی کو یہ بھی بتایا کہ 39 درخواستوں میں سے 18 کی جانچ جاری ہے او ر بقیہ 19 درخواستیں مسترد کر دی گئیں ہیں، تاہم درخواست دہندگان شہریت کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔

آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)

آسام کے پارلیمانی امور کے وزیر چندر موہن پٹواری نے پیر کے روز ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ آسام میں شہریت ترمیمی قانون کے تحت 39 درخواست گزاروں میں سے اب تک دو لوگوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی ہے۔ آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی نمائندگی کرتے ہوئے چندر موہن پٹواری نے اسمبلی کو یہ بھی بتایا کہ 39 درخواستوں میں سے 18 کی جانچ جاری ہے او ر بقیہ 19 درخواستیں مسترد کر دی گئیں ہیں، تاہم درخواست دہندگان شہریت کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔

شہریت ترمیمی قانون کو پارلیمنٹ نے دسمبر 2019 میں منظور کیا تھا اور مرکزی حکومت نے مارچ 2024 میں اس قانون کے ضابطوں اور قواعد جاری کیے تھے۔۔ اس قانون کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ حزب اختلاف نے بھی اس قانون کی مخالفت کی تھی اور کئی ریاستوں نے اس قانون کے خلاف قراردادیں منظور کی تھیں۔

کیا کہتے ہیں اعداد و شمار؟

ریاستی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ 2021 سے 2024 کے درمیان 156 بنگلہ دیشی شہری ضروری دستاویزات کے بغیر آسام میں داخل ہوتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ اگست میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور ہندوستان بھاگ آنے کے بعد بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

اس سے قبل مارچ 2024 میں آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا یہ قانون ان کی ریاست میں ’’مکمل طور پر ناکام ثابت ہوگا‘‘، کیوں کہ آسام میں اس کے تحت سب سے کم درخواستیں بھری جائیں گی۔ حالاں کہ پارلیمنٹ میں اس قانون کی منظوری کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اس سے ’’لاکھوں کروڑوں‘‘ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

بھارت ایکپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read