بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے، انڈین اوورسیز کانگریس کے سربراہ سیم پترودا نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارت میں کسی بھی زمین، مکان یا حصص کے مالک نہیں ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر ضروری طور پر تنازعہ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔
بی جے پی لیڈر این. آر رمیش نے الزام لگایا ہے کہ سیم پترودا نے محکمہ جنگلات کے افسران سمیت پانچ اعلیٰ سرکاری افسران کے ساتھ مل کر یلہنکا، بنگلورو میں 12.35 ایکڑ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا۔ اس زمین کی قیمت تقریباً 150 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس معاملے میں رمیش جو بروہت بنگلورو مہانگرا پالیکے (BBMP) کے سابق کونسلر ہیں۔ انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور کرناٹک لوک آیکت کو شکایت درج کرائی ہے۔
سیم پترودا نے سوشل میڈیا پر وضاحت دی
سیم پترودا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر ایک بیان کہا کہ “بھارتی میڈیا میں آنے والی حالیہ خبروں کو دیکھتے ہوئے، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں میری کوئی جائیداد نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس کوئی زمین ہے، نہ مکان ہے اور نہ ہی شیئرز”۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔
امریکہ میں رہنے والے کانگریس لیڈر نے وضاحت دے دی۔
امریکہ میں رہنے والے کانگریس لیڈر نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے ہندوستانی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے کبھی کوئی تنخواہ نہیں لی۔ انہوں نے کہا، “چاہے میں نے 1980 کی دہائی میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ کام کیا ہو یا 2004 سے 2014 تک ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ، میں نے کبھی کسی قسم کی تنخواہ نہیں لی۔”
کرپشن پر بھی دیا بڑا بیان
اس کے علاوہ سیم پترودا نے کرپشن کے حوالے سے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ بات ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں کہ اپنی پوری زندگی میں، 83 سال میں میں نے کبھی رشوت نہیں دی اور نہ ہی قبول کی، یہ سچائی ہے۔
بھارت ایکسرپیس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


