Bharat Express DD Free Dish

US Deported Indians: ‘ہاتھ پاؤں بندھے تھے، امریکہ سے ڈی پورٹ کیے گئے ہندوستانیوں کے رشتہ داروں نے کرب کی سنائی داستان

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواں کوٹ کا رہنے والا منگل سنگھ تھند اپنے پوتے جسنور سنگھ کو لینے ایئرپورٹ آیا تھا۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ “ایجنٹ نے ہمیں بتایا کہ ہمارے بچے کو براہ راست امریکہ لے جایا جائے گا،

امریکہ سے 116 غیر قانونی تارکین وطن کو لے کر ایک طیارہ ہفتہ 15 فروری 2025 کی رات دیر گئے امرتسر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کا امریکہ میں بہتر مستقبل بنانے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔

امریکہ میں بہتر مستقبل کے خواب لے کر یہ لوگ خطرناک جنگلوں  ،  سمندر  پہاڑی راستوں سے گزرے ،لیکن سرحد پر ہی پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو امریکہ سے  ڈی پورٹ کردیا گیا  ۔ ہندوستان آنے کے بعد ان نوجوانوں نے اپنی داستان بیان کی ہے۔

ہمیں اسے بھیجنے پر افسوس ہے

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواں کوٹ کا رہنے والا منگل سنگھ تھند اپنے پوتے جسنور سنگھ کو لینے ایئرپورٹ آیا تھا۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ “ایجنٹ نے ہمیں بتایا کہ ہمارے بچے کو براہ راست امریکہ لے جایا جائے گا، لیکن اسے کولمبیا لے جایا گیا اور وہاں 3.5 ماہ رہنے کے لیے کہا گیا، پھر جہاز کے ذریعے پاناما لے جایا گیا، جہاں اسے گھنے جنگلات کو عبور کرنا پڑا۔ وہ دن میں دو بار ہم سے بات کرتا تھا، ہم نے اسے زخمی اور تھکا ہوا دیکھا ہے۔ ہمیں اسے بھیجنے پر افسوس ہے۔”

‘پولیس نے اسے تین گھنٹے میں ہی  پکڑ لیا’

فیروز پور کے رہائشی سورو نے بتایا کہ وہ پہاڑی علاقے سے امریکہ میں داخل ہونے کے دو سے تین گھنٹے کے اندر پکڑا گیا۔ اس کی پریشانی 17 جنوری کو شروع ہوئی، جب ایک ایجنٹ نے اسے امریکہ بھیجنے کے لیے 45 لاکھ روپے لیے۔ اس کے بجائے، اسے ایک ہفتے کے لیے ملائیشیا، پھر 10 دن کے لیے ممبئی، پھر ایمسٹرڈیم، پاناما، تاپاچولا اور میکسیکو سٹی لے جایا گیا۔ وہاں سے وہ 3-4 دن کا سفر کر کے امریکہ پہنچا۔

بالآخر سرحد پار کرنے کے بعد بھی اس کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ پولیس انہیں تھانے لے گئی اور پھر انہیں ایک کیمپ میں بھیج دیا، جہاں وہ 15-18 دن تک رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی نے ہمارا بیان نہیں لیا، ہماری اپیل پر کسی نے کان نہیں دھرے، ہمارے ہاتھ پاؤں بندھے، ہمارے فون ضبط کر لیے گئے اور جب ہم جہاز میں سوار ہوئے تو ہمیں بتایا گیا کہ ہمیں ملک  ڈی پورٹ  کیا جا رہا ہے۔

‘مجھے ہندوستان میں نوکری نہیں مل رہی تھی’

ایک اور جلاوطن گربچن سنگھ کے والد جتندر پال سنگھ نے کہا کہ اس نے اپنے بیٹے کو امریکہ بھیجنے کے لیے 50 لاکھ روپے ادا کیے، لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اسے ڈنکی  کے راستے سے لے جایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، کیونکہ وہ ہندوستان میں ملازمت حاصل کرنے سے قاصر تھا۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read