Bharat Express DD Free Dish

PFI Conspiracy Case: راجستھان کے 5 اضلاع میں این آئی اے کی چھاپہ ماری، پی ایف آئی اراکین کے ٹھکانوں کی تلاش جاری

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کے روز راجستھان کے پانچ اضلاع میں سات ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی ہے اور تلاشی مہم چلائی ہے۔

علامتی تصویر

PFI Conspiracy Case: قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) راجستھان میں ممنوعہ تنظیم پاپولرفرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی کے مبینہ اراکین کے کئی ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، کوٹہ، بھیل واڑہ، سوائی، مادھوپور، بوندی سمیت دیگر مقامات پر چھاپہ ماری کی جا رہی ہے۔ چھاپہ ماری ہفتہ کی صبح شروع ہوئی اور فی الحال جاری ہے۔

ذرائع نے کہا، وہ پی ایف آئی کے لئے کام کر رہے تھے اور تنظیم میں سینئر عہدے پر تھے۔ حال ہی میں ہم نے ملزمین کا بیان درج کیا، جنہوں نے ہمیں ان کے بارے میں بتایا۔ ہم نے ثبوت بھی جمع کئے ہیں، جس کے بعد چھاپہ ماری کی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ معاملے میں گرفتاری کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق، جن مقامات پر این آئی اے کی چھاپہ ماری کی گئی ہے، وہ مشکوک افراد کے رہائشی اور تجارتی کیمپس ہیں۔ پی ایف آئی سازش معاملے میں 19 ستمبر 2022 کو این آئی اے نے از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کیا تھا۔

قابل اعتراض دستاویز ضبط کئے

قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے راجستھان کے سوائی مادھوپور، بھیل واڑہ،  بوندی اور جے پور میں ایک ایک کوٹہ میں تین مقامات پر مشتبہ رہائشی اور تجارتی کیمپس کی تلاشی لی۔ این آئی اے نے کہا کہ انہوں نے تلاشی کے دوران ڈیجیٹل آلات، ایئرگن، تیز ہتھیار اور قابل اعتراض دستاویز ضبط کئے۔

یہ بھی پڑھیں:  Bhiwani Junaid-Nasir Murder Case: بھوانی قتل سانحہ سے متعلق اسدالدین اویسی کا بڑا الزام، وزیر داخلہ امت شاہ سے بتایا ملزم کا کنکشن

معاملے میں جانچ جاری

این آئی اے نے بتایا ہے کہ ہم معاملے میں آگے کی جانچ کر رہے ہیں۔ معاملہ مصدقہ ذرائع سے ملی جانکاری سے جڑا ہوا ہے کہ راجستھان کے کوٹہ کے محمد آصف اور باراں ضلع کے باشندہ پی ایف آئی کے صادق صراف شامل ہیں۔ دونوں لوگ ممنوعہ تنظیم کے عہدیداران، اراکین اور کارکنان کے ساتھ غیرقانونی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

 -بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read