Bharat Express DD Free Dish

HC Converts Swamy’s Petition into PIL: دہلی ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی ہندوستانی شہریت منسوخ کرنے کی درخواست کو پی آئی ایل میں کیا تبدیل

سبرامنیم سوامی نے وزارت داخلہ سے اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوامی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ راہل گاندھی برطانیہ کی رجسٹرڈ کمپنی بیک لوپس لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی

دہلی ہائی کورٹ نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی ہندوستانی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سبرامنیم سوامی کی طرف سے دائر درخواست کو ایک PIL میں تبدیل کر دیا ہے۔ ساتھ ہی جسٹس سنجے نرولا کی عدالت نے کیس کو روسٹر بنچ کو بھیج دیا ہے۔ سبرامنیم سوامی نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ راہل گاندھی کے پاس برطانوی شہریت ہے۔ ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے۔

سبرامنیم سوامی نے وزارت داخلہ سے اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوامی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ راہل گاندھی برطانیہ کی رجسٹرڈ کمپنی بیک لوپس لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمپنی نے 2005 اور 2006 میں سالانہ ریٹرن جمع کرائے تھے۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کی تاریخ پیدائش 19 جون 1970 ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ سبرامنیم سوامی نے گزشتہ ہفتے راہل گاندھی کی شہریت کو لے کر بڑا الزام لگایا تھا۔ سوامی نے کہا تھا کہ راہل گاندھی کے پاس برطانوی شہریت ہے۔ اس کے بارے میں سوامی نے اگست 2019 میں وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ راہل گاندھی ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی ایک ملک کے شہری ہوسکتے ہیں۔

لیکن وزارت داخلہ نے پانچ سالوں میں یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے اس معاملے پر کیا فیصلہ یا کارروائی کی ہے۔ اس سے پہلے راہل گاندھی کی شہریت کا مسئلہ کئی بار اٹھ چکا ہے۔ اس سلسلے میں آر ٹی آئی بھی دائر کی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read