Bharat Express DD Free Dish

India-Ethiopia 2000 years trade relations: بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان دو ہزار سال پرانا تعلق، مصالحوں سے شروع ہوئی کہانی

بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان تجارتی تعلقات دو ہزار سال پرانے ہیں۔ مصالحوں اور ریشم کے بدلے سونا اور ہاتھی کے دانت کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ وزیر اعظم مودی کے دورے سے ان رشتوں کے مزید مضبوط ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

اگر کوئی آپ سے کہے کہ کالی مرچ اور ریشم دو اور بدلے میں سونا اور ہاتھی دانت لے جاؤ تو شاید آپ اسے مذاق سمجھیں، لیکن یہ کبھی ایک حقیقت ہوا کرتی تھی۔ قدیم زمانے میں بھارت کے مصالحے، خاص طور پر کالی مرچ، پوری دنیا میں اس قدر مشہور تھے کہ تاجر سمندر پار کر کے یہاں تک پہنچتے تھے۔

مصالحوں کے لیے سب کچھ قربان

بھارتی مصالحوں کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ تاجر انہیں حاصل کرنے کے لیے بڑی بڑی دولت لٹانے کو تیار رہتے تھے۔ کالی مرچ کو اُس دور میں ‘کالا سونا’ کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تجارت دنیا بھر میں پھیلی اور کئی ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے۔

ایتھوپیا سے جڑا خاص رشتہ

افریقہ کا ملک ایتھوپیا اُن ممالک میں شامل ہے جو بھارت کے ساتھ قدیم زمانے سے تجارت کرتا رہا ہے۔ ایتھوپیا کو ‘انسانی تہذیب کی جائے پیدائش’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے ہاتھی دانت اور سونا بھارت آتا تھا، جبکہ بھارت سے مصالحے اور ریشم وہاں بھیجے جاتے تھے۔ یہ رشتہ صرف تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ ثقافتی اور تہذیبی تبادلہ بھی ہوتا رہا۔

پی ایم مودی کا دورہ

ایتھوپیا اس لیے بھی زیرِ بحث ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے تین ممالک—اردن، ایتھوپیا اور عمان—کے دورے پر ہیں۔ اس سفر کے دوران بھارت اور ایتھوپیا کے تعلقات کے مزید مضبوط ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان یہ دو ہزار سال پرانا رشتہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح مصالحوں اور ثقافت نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read