Bharat Express DD Free Dish

World News

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں میں ایران کے تقریباً 200 شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان نمایاں ہے۔ تہران اور مشہد کے بعد اصفہان ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایران کا اہم صنعتی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں میزائل اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہم ادارے موجود ہیں، جو شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

لبنان سے 177 بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے جبکہ قطر سے بھی 500 سے زائد بھارتی شہری تجارتی پروازوں کے ذریعے ہندوستان روانہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ہیلپ لائنیں فعال کر دی ہیں اور شہریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امن کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس گفتگو میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "یہ خوش آئند خبر ہے کہ کل شام الخارج میں پیش آنے والی افسوسناک واقعے میں کسی بھارتی کی موت نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے رابطے میں ہے۔