Bharat Express DD Free Dish

World News Update

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کی صورتحال امریکہ کے لیے غیر معمولی خطرہ بن سکتی ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایران نے اب تک اسرائیل پر سب سے بڑے میزائل حملے میں 500 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے مطابق صرف 24 مارچ کی رات میں ہی 220 میزائل ایک ساتھ داغے گئے جو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کی لہر اب فلپائن تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کشیدگی نے انٹرنیشنل انرجی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے فلپائن نے منگل کو ’نیشنل انرجی ایمرجنسی’ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلپائن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انرجی بحران کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔

ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا، "ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کی جانب سے بات چیت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ امریکہ نے ہمارے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی، جس کے بعد پیچھے ہٹنا خطرے سے بچنے کی کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز پر ہمارا موقف برقرار ہے"۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہوئی یا بڑے پیمانے پر پھیلی تو لاکھوں دیگر بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ماری گئی تعداد میں 206 بچے ایران میں، 118 لبنان میں، 4 اسرائیل میں اور ایک کویت میں شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ہر دن تقریباً 87 بچے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں کم از کم 20 فوجیوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی تصاویر میں حادثے کے مقام سے اٹھتا دھواں اور امدادی سرگرمیوں کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ موقع پر متعدد فوجی اہلکار اور ریسکیو ٹرک پہنچ چکے ہیں تاکہ مزید زخمیوں کو بچایا جا سکے۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تنازعات کو کم کرنا اور خطے میں امن قائم کرنا بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر عہدیدار شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان، ترکی اور مصر نے پردے کے پیچھے ثالثی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی ساحلی پٹی پر واقع میزائل ٹھکانوں پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے، جسے دنیا کا نہایت اہم توانائی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایران کے اینٹی شپ کروز میزائل سسٹم موجود تھے۔