Bharat Express DD Free Dish

World News Update

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

موہوزی کینروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں گے بلکہ ترک ایئرلائنز پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ماہرین اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈار مہمانوں کی جانب بڑھ رہے تھے کہ ریڈ کارپٹ پر پھسل کر زمین پر گر گئے۔ خوش قسمتی سے انہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ حادثے کے فوراً بعد ڈار نے خود کو سنبھالا اور دوبارہ کھڑے ہو کر مہمانوں کا استقبال اور سلام پیش کیا۔ صارفین نے اس واقعے پر ہلکے پھلکے انداز میں ردعمل دیا اور اسے وائرل کر دیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔