Bharat Express DD Free Dish

Weather Forecast

آئی ایم ڈی نے بتایا ہے کہ مغربی ہمالیائی خطے میں 24 اور 25 جنوری کو برفباری کی سرگرمیاں کم ہو کرہلکی بارش میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 27 جنوری سے شمال مغربی بھارت میں بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے دہلی کے کئی حصوں میں سرد لہر کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق صفدرجنگ کے مرکزی موسمی اسٹیشن پر کم سے کم درجہ حرارت 4.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا،

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں تین روز کی شدید گرمی کے بعد موسم ایک بار پھر تبدیل ہو جائے گا۔ 30 مئی سے دہلی اور آس پاس کے شہروں میں ایک بار پھر طوفان اور بارش کا دور شروع ہوگا۔

آئی ایم ڈی کے مطابق 16 مئی تک دہلی میں ابر آلود رہنے کی پیش گوئی ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں جزوی اضافے کا بھی امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 5 سے 6 ڈگری سیلسیس بڑھنے کا امکان ہے۔

جموں و کشمیر میں سردی کی لہر کی وجہ سے کم از کم درجہ حرارت صفر سے نیچے 7.8 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ گلمرگ اور پہلگام جیسے علاقوں میں شدید برفباری ہورہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے اونچائی والے علاقوں میں ہلکی برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے علاوہ دھند اور ٹھنڈی ہواؤں سے نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے۔

انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ خراب موسم کے باعث پروازیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات نے بدھ کو دہلی میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

پنجاب اور ہریانہ میں سردی اپنے عروج پر ہے۔ موگا میں کم سے کم درجہ حرارت 2.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ امرتسر، پٹیالہ اور لدھیانہ جیسے شہروں میں بھی درجہ حرارت معمول سے بہت کم ہے۔ ہریانہ کے سونی پت اور کرنال میں درجہ حرارت 3 ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے۔

9 جنوری کو اتر پردیش میں موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔ حالانکہ کچھ مقامات پر گھنی دھند چھائی ہو سکتی ہے۔ ویسٹرن ڈسٹربنس کے اثر کی وجہ سے 10 اور 12 جنوری کے درمیان مغربی یوپی، پوروانچل، بندیل کھنڈ اور اودھ کے علاقے میں ہلکی سے درمیانی بارش کی امید ہے۔

دہلی این سی آر میں اتنی شدید سردی ہے کہ 400 سے زیادہ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔ گھنی دھند کے باعث حد نگاہ 50 میٹر تک گر گئی ہے۔ لوگوں کو سڑکوں پر گاڑی چلانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ تیز بارش کی وجہ سے حد نگاہ کم ہو جائے گی۔ پانی بھر جانے یا درختوں کے اکھڑ جانے سے ٹریفک اور بجلی عارضی طور پر درہم برہم ہو جائے گی۔ فصلوں کو نقصان پہنچے گا اور اچانک سیلاب آئے گا۔