Bharat Express DD Free Dish

Waqf Board

اروند ساونت نے کہا کہ ’’وقف بورڈ میں چنندہ لوگ شامل ہوں گے۔ یہ جمہوری انتخاب کے خلاف ہوگا اور اس سے بورڈ میں مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی، جس کی وجہ سے وہ یہاں بھی اقلیت میں آ جائیں گے۔‘‘

وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ یہاں ایک رکن نے کہہ دیا کہ اقلیتی طبقہ اس قانون کو منظور نہیں کرے گا۔ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے، سب کو قبول کرنا پڑے گا۔

مولانا محمود اسعد مدنی کا کہنا ہے کہ اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیا جا رہا ہے، وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے

اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی نظریں وقف کی زمین پر ہیں۔ لیکن وقف کی زمین سے بڑا مسئلہ ملک کی زمین کا ہے جس پر چین نے اپنے گاؤں بسا لیے ہیں۔

اس دوران اقلیتی وزیر کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کا کام وقف املاک کا انتظام کرنا نہیں ہے۔

وقف بورڈ اور وقف ترمیمی بل اس وقت پورے ملک میں خبروں میں ہے۔ چائے کے اسٹال سے لے کر پارلیمنٹ تک میں اس پر بحث جاری ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا ڈھونگ رچایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز اور سفارشات کو مسترد کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جو چودہ ترامیم کی گئیں ان میں بھی چالاکی سے ایسی شقیں شامل کی گئیں جن سے حکومت کو وقف املاک پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔

وقف ترمیمی بل 2024 کے لیے بنائی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین جگدمبیکا پال بجٹ اجلاس کے دوران پیر (3 فروری 2025) کو لوک سبھا میں رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔

وقف ترمیمی بل پر جے پی سی کا اجلاس کل صبح 10 بجے ہوگا۔ اس میں مسودہ رپورٹ کو قبول کیا جائے گا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اختلافی نوٹ دیں گے۔

جے پی سی کے اراکین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مجوزہ بل میں اپنی ترامیم آج کے 16.00 بجے یعنی 22.01.2025 تک بھیج دیں، اس کے علاوہ جے پی سی کی اگلی نشست بھی اس ماہ کی 24 اور 25 تاریخ کو بل کی شق بہ شق پر غور کے لیے بلائی گئی ہے۔