Bharat Express DD Free Dish

Waqf Board Row

اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل جانچ اور رجسٹریشن کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد حکومت اور وقف اداروں نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ ریاست بھر میں اب تک 31 ہزار سے زیادہ وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے، جس کے بعد کئی قدیم قبرستانوں، درگاہوں اور مذہبی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

جے پور میں مولانا توقیر رضا خان نے وقف اراضی کو لے کر بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسی کے باپ کو ہماری جائیداد پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان ڈرپوک نہیں ہیں۔ ہم نے ان کو روک رکھا ہے۔ جس دن ہم سڑکوں پر آ گئے تو آپ کی روح کانپ جائے گی۔ حکومت ہمیشہ بے ایمان رہی ہے اور آج کی زیادہ ہے۔

وقف بورڈ مبینہ طور پر ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد ہندوستان میں تیسرا سب سے بڑا اراضی رکھنے والا ہے۔ وقف بورڈ پورے ہندوستان میں 9.4 لاکھ ایکڑ پر پھیلی 8.7 لاکھ جائیدادوں کو کنٹرول کرتا ہے، جس کی قیمت 1.2 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں دو شیعہ وقف بورڈ سمیت 32 وقف بورڈ ہیں۔ ریاستی وقف بورڈ کا کنٹرول تقریباً 200 افراد کے ہاتھ میں ہے۔

اگر ذرائع کی مانیں تو شیو سینا (یو بی ٹی) کا کہنا ہے کہ جس دن یہ بل پیش کیا گیا، اس دن دہلی میں ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ تھی،

قومی کنوینر پروفیسر شاہد اختر نے وقف بورڈ کی ذمہ داریوں سے متعلق مسلمانوں کے متعدد سوالات پر زور دیا۔ انہوں نے بورڈ کو چیلنج کیا کہ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں اس کی شراکت کا ریکارڈ فراہم کرے