Bharat Express DD Free Dish

VICE PRESIDENT

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھاکرشنن نے سماجی پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی والدہ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”آج تریپور میں اپنی والدہ کے آشیرواد حاصل کرنے کا لمحہ نصیب ہوا “۔ تصویر میں ان کی والدہ کو بیٹے کو دعائیں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم   مودی اور وزیر داخلہ  امت شاہ نے مہارشی والمیکی جینتی کے موقع پر ملک کو دلی مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مہارشی والمیکی جینتی پر عوام سے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

آچاریا لوکیش منی نے یقین ظاہر کیا کہ:"سی پی رادھا کرشنن کا سیاسی اور انتظامی تجربہ، جو انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی سے جوڑتا ہے، بھارت کی ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔"

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی کی درخواست پر اپوزیشن امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا گیا

رادھاکرشنن کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے این ڈی اے کا امیدوار نامزد کیا جاچکا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے نائب صدر کے انتخاب کے لیے انتخابی عمل شروع کر دیا ہے۔ کمیشن نے اس اطلاع سے متعلق ایک پریس نوٹ جاری کیا ہے۔ نوٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ ’’وزارت داخلہ سے اطلاع ملی ہے کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب اس …

جگدیپ دھنکھڑنے اچانک راشٹرپتی بھون پہنچ کرپروٹوکول کو توڑتے ہوئے استعفیٰ سونپا، جسے صدرجمہوریہ نے منظورکرلیا۔ استعفیٰ کے بعد سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہے اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن ہنگامے کا دورجاری ہے۔

جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد اب نئے نائب صدرکے انتخاب کا عمل شروع ہوجائے گا۔ این ڈی اے جلد ہی امیدوارکا اعلان کر سکتا ہے، اس میں کئی اہم لیڈران کے نام سامنے آنے لگے ہیں۔ حالانکہ ابھی تک بی جے پی کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑنے اپنے استعفیٰ سے 11 دن پہلے 2027 میں ریٹائرہونے کی بات کہی تھی۔ وہ ہندوستان کے تیسرے نائب صدرہیں، جنہوں نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔

فی الحال دھنکھڑ کے استعفیٰ پر سیاست تیز ہو رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان ان کے استعفے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کا اچانک استعفیٰ اتنا ہی چونکا دینے والا ہے جتنا کہ یہ ناقابل تصور ہے۔